امریکہ کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے باوجود امریکی زمینی کارروائیوں کی اجازت واپس نہیں لی گئی:یمن

واشنگٹن: یمن نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ متنازعہ امریکی حملے میں کئی عام شہریوں کی ہلاکت پر ناراضگی کے باوجود امریکہ کے ساتھ زمینی انسداد دہشت گردی کاروائیاں بند نہیں کی جائیں گی۔ نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر البائدہ صوبہ پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد وہاں شروع ہوئی لڑائی میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا اور ایک امریکی طیارہ جل گیا مقامی طبی عملہ نے بتایا ہے کہ اس حملے میں کئی عورتوں اور بچوں کی بھی جان گئی ہے۔ یمنی افسران نے رائٹر کو بتایا ہے کہ حکومت نے امریکہ سے خصوصی کارروائی کے تحت زمینی حملے کرنے کی اجازت واپس نہیں لی ہے مگر پچھلی کارروائی پر ”اعتراضات “ واضح کردیئے ہیں۔ امریکہ میں یمنی سفارتخانہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ” یمن میں امریکہ کی شراکت سے انسداد دہشت گردی کارروائیاں بند نہیں کی گئی ہیں۔ یمنی حکام کے صلاح مشورے سے یہ جاری رکھی جائیں گی مگر اس بارے میں احتیاط برتی جائے گی کہ عام شہریوں کی ہلاکت سے گریز کیا جائے۔ ایک یمنی افسر نے بتایا ” یمنی صدر عبدربو منصور ہادی نے یمن میں امریکی سفیر سے ملاقات کرکے ”پچھلے حملہ پر اپنی پریشانی ظاہر کردی ہے“۔
امریکی دفاعی افسران نے کہا ہے کہ وہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تفتیش کررہے ہیں۔ امریکی سینئر جان میک کین نے اس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا” جب آپ 7.5 کروڑ ڈالر کا جہاز کھودیتے ہیں اور اس سے بھی اہم ایک امریکی کی جان جاتی ہے تو میں اسے کامیابی نہیں کہہ سکتا۔“مگر وائٹ ہاؤس کے ترجمان سین اسپائسر نے حملہ کو حق بجانب قرار دیا اور کہا ” یہ پوری طرح کامیاب “ تھا۔ جو کوئی اسے کامیابی نہیں سمجھتا اسے معافی مانگنی چاہئے اس نے اپنی جان قربان کرنے والے سپاہی اوونس کی تزلیل کی ہے۔ یمنی حکومت القاعدہ پر امریکی حملے کی حمایت کرتی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ ہادی کے ساتھ کام کرت رہے گا تاکہ یمن سے القاعدہ اور داعش (آئی ایس) کا صفایا کیا جاسکے۔ 29 جنوری کا کمانڈو حملہ یمن میں امریکی فوج کا ایسا محض دوسرا حملہ ہے جس کا سرعام اعتراف کیا گیا ہے۔ امریکی افسران نے پچھلے ہفتہ رائٹر کو بتایا تھا کہ کارروائی بغیر تیاری خفیہ اطلاعات حاصل کئے بنا اور زمین پر مدد لئے بغیر کی گئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں حملہ آور فوجی ٹیم القاعدہ کے ایک ٹھکانے پر اتر گئی جہاں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں اور وہاں مسلم انتہاپسندوں کا بڑا دستہ بھی موجود تھا۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمان نے پچھلے ہفتہ کہا کہ ہم محض ایسی کارروائیاں چاہتے ہیں جن کی اچھی منصوبہ بندی کی گئی ہو اور جن کی کامیابی یقینی ہو۔ یمن کی صورتحال بے حد پیچیدہ ہے وہاں سعودی نواز حکومت اور ایران نواز حوثی ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔

Title: yemeni officials say they did not withdraw permission for us ground operations | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply