مسلم اکثریتی صوبہ شین جیانگ چین کے لیے سب سے بڑامسئلہ: چینی اعلیٰ سیکورٹی افسر

شنگھائی: چینی صوبہ شین جیانگ کے مسلم انتہاپسند چینکی سلامتی نیز معاشی اور سیاسی استحکام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ چینی روزنامہ نے ایک اعلیٰ سیکورٹی افسر کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔ بیجنگ حکومت عرصہ سے یہ کہہ رہی ہے کہ وہ دور افتادہ مغربی خطہ شین جیانگ کی تنظیم مشرقی ترکستان تحریک آزادی (ای ٹی آئی ایم) کا سامنا ہے جہاں پچھلے چند سال کے دوران ایغور نسل کے لوگوں اور اکثریتی ہان چینیوں کے درمیان نسلی تشددمیں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے ریاستی کمشنر چنگ گوپنگ کا کہنا ہے کہ ”مذکورہ تحریک چین کے سماجی استحکام ، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے“۔
انہوں نے یہ رائے زنی ایک ہفتہ قبل دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایغور مسلمانوں کو عراق میں تربیت دی جارہی ہے انہوں نے عہد کیا ہے کہ چین میں ان کا پرچم لہرائے گا اور دریاو¿ں میں خون بہے گا۔چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی نظروں میں خطہ کی کتنی اہمیت ہے یہ اس بات سے ظاہر ہے کہ صدر شی جن پنگ نے کل ملک کے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے موقع پر کل شین جیانگ کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ مگر اس میٹنگ کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ چین کو فکر ہے کہ شین جیانگ کے مسلم ایغور داعش کے ساتھ لڑنے کے لئے شام اور عراق جارہے ہیں وہ جنوب مشرقی ایشیا اور ترکی کے راستہ غیرقانونی سفر کرتے ہیں۔ ادھر انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ شین جیانگ میں جو شورش ہے جو چین کی ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے ماہرین تو اس بات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ ”ترکستانی تحریک آزادی“ نام کی واقعتاًکوئی متحد تنظیم ہے بھی کہ نہیں۔
چین اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ شین جیانگ میں لوگوں کو دباکر رکھا گیا ہے۔ چینگ نے کہا کہ ”چین کو اس بات کی تحقیقات کرناچاہئے کہ کہیں افغانستان انتہا پسند اور دہشت گردانہ تنظیموں کی آماجگاہ تو نہیں بن رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ ہماری شمال مغربی سرحد کی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہوگا۔پچھلے ماہ وسط ایشیا کے نظریہ سازوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چینی فوجی افغان سرزمیں پر افغان فوج کے ساتھ مشترکہ گشت کررہے ہیں۔ مگر چین نے اسے مسترد کردیا ہے۔ چین نے چینی سازوسامان کے لئے نئے بری اور بحری راستے کھولے ہیں جنہیں ”ایک پٹی ایک سڑک“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا اور وسط ایشیا میں سرمایہ کاری کے پروجیکٹوں میں اربوں ڈالر لگادیئے ہیں جس کے بعد اسے سیکورٹی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ چینگ نے کہا ”جہاں جہاں ہمارے پروجیکٹ چل رہے ہیں وہاں کے حالات ٹھیک رکھنا ”ہمارے لئے ایک اہم کام اور آفت مسلسل ہے“۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Xinjiang separatists are chinas most prominent challenge official quoted as saying in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply