سن توسہی جہاں میں ہے ترافسانہ کیا

سمیع اللہ ملک،لندن
قصرسفیدکے فرعون کوبہادرکے لقب سے ملقب کرنابعض سادہ لوح لوگوں کے نزدیک ناقابل فہم ہے مگرذراسافہم رکھنے سب اہل دانش سمجھ چکے ہیںکہ اس جیسا”بہادر“آج تک کسی ماں نے نہیں جنا۔اس کی بہادری کااس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اب تک دنیاکے تین درجن ممالک میں جارحیت کے بعدجس سج دھج سے رسواہوکرنکلا ہے وہ تاریخ نے سیاہ باب کے طورپراپنے اندرمحفوظ کرلئے ہیںبلکہ خودامریکابہادربھی اپنے ان کرتوتوںپرکبھی نقاب ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔امریکی دارلحکومت میں منعقدہ نیوکلچرنیو کلیئرسیکورٹی سربراہ کانفرنس میں صدربارک اوبامانے دنیاسے مطالبہ کیاہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کوداعش کے پاگلوں سے بچائے،اگریہ ہتھیاران پاگلوں کے ہاتھ لگ گئے تووہ ان سے بڑے پیمانے پرتباہی مچادیں گے جس سے دنیایکسربدل جائے گی۔
قصرسفیدکے فرعون کے اس پرمغزبھاشن پرایک بیدارمغزدوست نے برجستہ کہا:”توقبلہ!ان پاگل سازوں کاکیا”بندوبست“کریں جن کی یہ تخلیق رواں صدی کی سب سے بڑی ہلاکت خیزکاروائی ہے“۔واضح رہے داعش کوامریکابہادرنے خودپیداکیا،اس کااعتراف امریکاکے بہت سے” ذمہ دار“کرچکے ہیں۔مستندحوالے کیلئے ہلیری کلنٹن کی تصنیف ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔سی آئی اے کے ذمہ داراس فتنے کوپیداکرنے،نشوونما دینے اوراسے ہلاکت خیزی وہلاکت آفرینی میں مصروف عمل رکھنے کاایک بارنہیں بارباراعتراف کر چکے ہیں۔
صدراوبامانے مذکورہ عالمی کانفرنس میں شریک عالمی رہنماو¿ں پرزوردیاکہ وہ اپنے جوہری اثاثوں کوفول پروف حدتک محفوظ بنانے کیلئے مزیداقدامات روبہ¿ عمل میں لائیں تاکہ انہیں داعش جیسے پاگل دہشت گردگروپوں سے مامون ومحفوظ رکھاجاسکے۔امریکی صدرنے سب سے زیادہ اس بات پرزوردیاکہ جوہری ہتھیاراور ایٹمی مواددہشت گردوں کی عالمی تنظیموں کے ہتھے چڑھ سکتاہے جس سے امن عالم کیلئے سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔اوبامانے اس حوالے سے آئی ایس (داعش)کاخاص طورپرنام لیاکہ اس جیسے دہشت گرد گروپوں کے شدت پسندجنونی لوگوں کی جوہری یاڈزنی بم تک رسائی روکنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مزیدتعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
اس دوران عالمی سربراہ کانفرنس میں پچاس سے زائدعالمی رہنماو¿ںیاان کے مجازنمائندوں نے شرکت کی۔اوبامانے اپنے خطاب میںآئی ایس کی جانب سے منظرعام پرآنے والی ایک ویڈیورپورٹ کاحوالہ دیااورکہااس سے دہشت گردوں کے عزائم کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔اوبامانے دعویٰ کیاکہ ہماری مشترکہ کوششوں ہی کی وجہ سے ابھی تک کوئی دہشت گرد گروپ ایٹم بم یاجوہری موادسے تیارشدہ ڈرٹی بم تک رسائی حاصل نہیںکرسکا۔واضح رہے کہ یہ تعلیٰ فرمانے والے ایٹمی اسلحہ کے موجد،تاجراوراستعمال کنندہ ہیں۔امریکا بہادرنے ایٹمی اسلحہ بنایا،اسلحہ سازی کی ترغیب دی اوراسے انسانوں کوہی نہیںنباتات اورجمادات کے بھی مکمل اتلاف کیلئے بے رحمی سے استعمال کیا۔ابتدائے آفرنیش سے لیکر تا دم ِ آخرانسانیت اس انسانیت سوزظلم کویادرکھے گی۔اگرایٹم بم یاجوہری موادان جنونیوں کے ہاتھ لگ گیاتووہ اسے زیادہ سے زیادہ انسانوں کوہلاک کرنے کیلئے استعمال کریں گے ۔
صدراوبامانے انکشاف فرمایاکہ پوری دنیامیں اندازاًدوہزارٹن جوہری موادموجودہے اورایسانہیں کہ یہ ساراہی موادمناسب طریقے سے محفوظ بھی ہے۔انہوں نے خبردارکرتے ہوئے کہاکہ ایسابم دنیاکوہلاکررکھ سکتاہے جس میں محض ایک سیب کے سائزکے برابرجوہری مواداستعمال کیاگیاہو۔پلوٹونیم کی کم سے کم مقداربھی لاکھوں انسانوں کوہلاک اورزخمی کر سکتی ہے اورایساہواتویہ انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اورماحولیاتی ہراعتبارسے ایک ایسی بڑی تباہی ہوگی جس کے نتائج کادنیامدت مدیدتک سامناکرتی رہے گی۔ایساکوئی بھی واقعہ ہماری دنیابدل کررکھ دے گا۔
عالمی کانفرنس کے بعدامریکی صدرنے اپنے چینی،فرانسیسی ،ترک ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی اوردہشت گردی کامقابلہ کرنے کیلئے باہمی تعاون کومزیدبڑھانے کامطالبہ کیاجبکہ شمالی کوریاکے جوہری تجربات کوامن کیلئے رکاوٹ قراردیتے ہوئے کہاکہ شمالی کوریاکے ایٹمی ہتھیارپوری دنیاکیلئے خطرہ ہیں جن کے داعش کے ہاتھ لگنے کاخدشہ موجودہے۔دریں اثناءامریکی جوہری عدم پھیلاو¿ کے محکمے کے اسسٹنٹ سیکرٹری تھامسن کنٹری مین نے اخبارنویسوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جوہری سلامتی کانفرنس نے پاکستان اور ہندوستان کومل بیٹھ کراعتمادسازی کے اقدامات کرنے کاموقع فراہم کیاتاکہ دونوں ملکوں میں کسی تنازعے کوآگے بڑھنے سے روکاجاسکے۔ امریکادونوں ملکوں میں مذاکرات کی فضا پیدا کرنے کی حما یت کرتاہے۔دونوں ملکوں نے جوہری مواداورایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے سلسلے میں جواقدامات کیے ہیں امریکاان سے متاثرہے۔
امریکی عہدیدارنے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت پاکستان اور ہندوستان کوایٹمی موادکے تحفظ کے مساوی قراردیاحالانکہ ہندستان میں پانچ ایٹمی حادثات وقوع پذیرہوچکے ہیں جبکہ پاکستان میں گزشتہ چالیس برس سے کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا،اس اعتبارسے دونوں ملکوں کوبرابرقرارنہیں دیاجاسکتاجبکہ پاکستان کی برترحیثیت تسلیم کرتے ہوئے اسے جوہری سپلائرگروپ کی ممبرشپ دینی چاہئے،نیزاس حوالے سے پاکستان پرناجائزدباو¿ ڈالنے کی روش کوبھی بندکیاجاناچاہئے۔امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری کایہ بھی کہناتھاکہ” ہمارے سردجنگ کے اپنے تجربے کی بات ہے کہ ہتھیاروں کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جوڈیٹرنس کے زمرے میں نہیں آتیں اورایسے ہتھیاررکھتے ہوئے تنازع میں ان کے استعمال کی خواہش پیداہوتی ہے جس سے تنازع بڑھ جاتاہے۔اگرچہ یہ بات ایک مفروضہ ہے مگرسردجنگ کے دوران اپنے تیارکردہ ہتھیاروں کی وجہ سے امریکااورسوویت یونین جوہری جنگ کے قریب آگئے تھے۔ اسی لئے ہم بھارت اورپاکستان کے ساتھ اسی مسئلے پربات کرناچاہتے ہیں۔امریکاپاک بھارت کے درمیان جج کا کردار ادا نہیں کرسکتا کہ وہ تعاون کررہے ہیں یا نہیں بلکہ ہماراکام صرف یہ ہے کہ دونوں کی مابین مذاکرات کی حوصلہ افزائی کریں“۔
اس حوالے سے امریکاکواس حقیقت کابخوبی علم ہوناچاہئے کہ پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ جامع مذاکرات کاسلسلہ بحال کرنے کی پوری کوشش کی مگر ہندوستان کسی نہ کسی بہانے پہلوتہی سے بازنہیں آتااوراگررضامندہوتابھی ہے توپیشگی شرائط کے ساتھ جوپاکستان کوقابل قبول نہیں ہوتیں۔پاکستان نے پٹھانکوٹ واقعے کی تحقیقات کے فراخدلانہ پیشکش کی مگر ہندوستان پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کی راہ میں خواہ مخواہ رکاوٹیںکھڑی کیںاوراسی لئے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کوبے نیل ومرام رہناپرا،اس پرمستزادیہ کہ بلوچستان سے ہندوستان کاایک ہائی پروفائل جاسوس رنگے ہاتھوں پکڑاگیا جس نے پاکستان میں انتہائی خطرناک تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیاہے مگر ہندوستان انتہائی ڈھٹائی کامظاہرہ کرتے ہوئے اسے نان سٹیٹ ایکٹرقراردےنے پرتلاہواہے۔ایسی صورت میں امریکاکی یہ پالیسی کس طرح قابل عمل قرارپاتی ہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ پرامن مذاکرات کی میزپربیٹھے؟
اوباما نے اپنی مذکورہ تقریردلپذیرمیں یہ دعویٰ بھی کیا:ہم نے جوہری سلامتی کیلئے اہم پیش رفت کی ہے،اس حوالے سے نیوکلیئرجوہری معاہدے کی102ملکوں نے توثیق کردی ہے، یہ معاہدہ جلدلاگوہوگا۔ان کاکہناتھاکہ ایران سے امریکاکامعاہدہ کامیاب رہاہے تاہم اس پربہترعملدرآمدکیلئے ابھی بہت کچھ کرناباقی ہے۔اوباما نے جوہری معاہدے کیلئے جوکچھ بھی کہا ہے وہ عالمی امن کیلئے مستقل خطرے کاباعث ہے تاہم سوال یہ ہے کہ جن ملکوں کے پاس جوہری ہتھیاراورایٹمی اثاثے وتنصیبات موجودہیں کیاوہ پوری طرح محفوظ ہیں؟ اس حوالے سے جوہری ہتھیاروں کی مانیٹرنگ کرنے والے عالمی ادارے کے تمام ملکوں کی ذمہ داری بھی ہے۔
دنیامیں جوہری تنصیبات پرحادثات بھی ہوتے رہتے ہیں۔چرنوبل ایٹمی پلانٹ پرہونے والے حادثے نے پوری دنیا کوہلاکررکھ دیاتھا۔اوبامانے جن خدشات کااظہارکیا ہے اس کے تدارک کیلئے نیوکلیئرسمٹ کااہتمام کیاگیا۔اس میں دنیاکے اہم ممالک نے جوہری اثاثوں اورتنصیبات کی فول پروف سیکورٹی کے حولے سے معاملات پرزوردیاگیاہے اوراس پرجومعاہدہ طے پایااس پر102ممالک نے دستخط بھی کردیئے ہیں۔پاکستان نے اسی کانفرنس کے موقع پراپنے ایٹمی اثاثوں اورتنصیبات کی حفاظت اورکمانڈاینڈکنٹرول نظام سے متعلق واضح بات کی ہے۔پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزازاحمدچوہدری نے کہاہے کہ پاکستان کوجوہری پروگرام مکمل طورپرمحفوظ اورخطے میں استحکام کیلئے ہے،پاکستان کاایٹمی پروگرام قومی دفاع اورکم سے کم ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے ہے۔
پاکستان کی جانب سے اپنے ایٹمی مواداورجوہری تنصیبات کی تحفظ اورسلامتی کیلئے کئے گئے اقدامات کااعتراف امریکااورایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے بھی کرتے ہیں ۔ پاکستان کی جوہری تنصیبات کے غیرمحفوظ ہونے کے حوالے سے تاثرحقیقت پرمبنی نہیں۔آئی اے ای اے نے عالمی سطح کے جوہری تنصیبات پر2734حادثات ریکارڈکئے ہیں جن میں پانچ حادثات ہندوستان میں ہوئے تاہم پاکستان میں اللہ کے فضل وکرم سے گزشتہ چالیس سال کے دوران ایک بھی حادثہ نہیں ہوااورنہ ہی حفاظتی اقدامات کی کوئی خلاف ورزی ہوئی۔ پاکستان سے مختصرنشانے کے میزائل اورچھوٹے جوہری ہتھیاروں کوٹیکنیکل یاجنگی ہتھیارکہنادرست نہیں۔ہمارے تمام میزائل کسی بھی قسم کی جارحیت روکنے کیلئے ہیں۔تمام جوہری ہتھیاراس وقت نیشنل کمانڈاینڈکنٹرول اٹھارٹی کے کنٹرول میں ہیں اوراس نظام کی صلاحیت اورمو¿ثرہونے کی حقیقت امریکاسمیت تمام بین الاقوامی ادارے تسلیم کرتے ہیں۔پاکستان میں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے فیصلے کااختیارکسی فیلڈکمانڈرکوحاصل نہیں۔پاکستان نے پورے ملک میں حساس مقامات پرریڈی ایشن مانیٹرلگائے ہوئے ہیںاورملک میں مزیدمانیٹرلگانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
پاکستان نے جس عزم سے اپناایٹمی اورمیزائل پروگرام مکمل کیاہے ،وہ صرف اپنے دفاع کیلئے ہے۔ہمسایہ ملک بھارت نے جب1973میں ایٹمی دھماکہ کیاتواس وقت کی ملکی قیادت نے دفاع پاکستان کیلئے اپنے زوربازوسے یہ صلاحیت حاصل کرلی۔پاکستان کاکمانڈاینڈکنٹرول سسٹم دنیاکے ترقی یافتہ ملکوں کے نظاموں سے کہیں بہترہے۔پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کے انتظام کیلئے جوانتظام کررکھاہے اس کاایک عالم معترف ہے،اس لئے پاکستان کو کسی بھی دباو¿ میں لانے کے بارے میں سوچابھی جانا نہیں چاہئے۔
بجاارشادہواکہ جوہری ہتھیاروں کوداعش اوراس جیسے پاگلوں سے بچاناچاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاپاگلوں کے ذیل میں داعش اوران جیسے گروہ ہی شامل ہیں؟کیاوہ لوگ کم پاگل تھے جنہوں نے سب سے پہلے دنیاکی تباہی کی بنیادرکھی اورایٹم بم بناکر اس کوچلاکرلاکھوں انسانوں کوچشم زدن میں موت کے گھاٹ اتاردیا۔کیاہیروشیمااورناگاساکی کی تباہ کاری عبرت حاصل کرنے کیلئے کافی نہیں تھی کہ آئندہ کیلئے ایسے تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری سختی سے بندکردی جاتی لیکن کسی نے عبرت نہیںپکڑی۔امریکاکی تقلید میں پہلے سوویت یونین پھر برطانیہ ،فرانس اورچین نے یکے بعددیگرے دہماکے کرکے جوہری ہتھیاربنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کرلی۔اگرپاگل پن کے برعکس عقل مندی کامظاہرہ کیاجاتاتوان ہتھیاروں کے بنانے کی ضرورت نہیں تھی مگرکسی کواس خطرناک کھیل کوختم کرنے کااحساس نہ ہوا۔
تباہی کی یہ دوڑجاری رہی تاآنکہ ہندوستان پاکستان کے دوٹکڑے کرنے کے بعدایٹمی دہماکہ کرکے چھٹی جوہری قوت بن گیااوراب ہائیڈروجن بم کی تیاری میں مصروف ہے۔ ہندوستان کاہدف امریکا،چین یاسوویت یونین نہیں بلکہ پاکستان تھااوراب بھی ہے لہندامجبوراًپاکستان کوبھی دفاع کیلئے یہ ناخوشگوارراہ اختیارکرناپڑی۔کون نہیں جانتاکہ اسرائیل کوایٹم بم کی تیاری میں امریکاکی بھرپور حما یت اورعملی مددحاصل تھی۔کوئی ذی ہوش یقین نہیں کرسکتاکہ امریکااوراس کے بعدایٹم بم بنانے والے دیگرملکوں کوجوہری ہتھیاروں کی تباہ کاری کی وسعت اورحجم کااندازہ نہیں تھا؟بہرحال اگر ہتھیاروں کاخاتمہ مقصودہوتوامریکاپہل کرے،اپنے ہتھیارکم ہی نہیں بلکہ مکمل طورپرختم کرے اوراپنے دعوو¿ں میں خلوص کاعملی مظاہرہ کرے۔تباہی کی بنیادرکھنے والے اور”اے بہادر!ایں ہمہ آوردہ تست “کے مصداق امریکابہادرہی کوبالفصل اس بہادری کامظاہرہ کرناچاہئے خصوصاًاسرائیل جیسے پاگل کے جوہری ہتھیاروں پرپابندی لگائے جس نے امریکاکے تازہ دوست ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ کے تمام اسلامی ملکوں کی سلامتی معرض خطرے میں ڈال رکھی ہے!
سن توسہی جہاں میں ہے ترافسانہ کیا
کہتے ہیں تجھے کوخلقِ خداغائبانہ کیا؟

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: World must prevent isis from obtaining nukes in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply