امریکہ ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے پر کمر بستہ

واشنگٹن: امریکہ ایران کے سب سے طاقتور سیکورٹی ادارے سپاہ پاسدداران انقلاب اسلامی(آئی آر جی سی ) کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں درج کرانے کے لیے کوئی تجویز لانے پر غور کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاملے میں امریکی حکومت نے کئی ایجنسیوں سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اگر اس تجویز کو نافذ کیا گیا توآئی آر جی سی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ یہ تنظیم سب سے مضبوط ہے اور ایران کی اقتصادیات اور سیاسی میدان میں اس کا کافی دخل ہے۔
اگر اس تجویز کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اس سے عراق میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش)کے خلاف امریکی جدوجہد اور زیادہ پیچیدہ ہو جائے گی کیونکہ وہاں کی شیعہ ملیشیا کو ایران اورآئی آر جی سی کی حمایت حاصل ہے اور یہ سنی جہادی گروپوں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آئی آر جی سی سے وابستہدرجنوں ادارے اور لوگوں کو امریکہ نے پہلے ہی ممنوعہ افراد و تنظیم کی فہرست میں ڈال رکھا ہے۔ سال 2007 میں امریکی وزارت خزانہ نے اس تنظیم سے وابستہ قدس فورس کو دہشت گردی کے لیے مالی امداد دینے کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن اگر اب پوری تنظیم کو ہی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو اس کے کافی دور رس نتائج مرتب ہوں گے ۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت والانیا امریکی انتظامیہ ایران کو امریکی مفادات کے لئے سب سے بڑا خطرہ مانتا ہے اور اب وہ اس سمت میں کچھ پختہ قدم اٹھانے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ آئی آر جی سی پر پابندی لگانے سے حالات اور خراب ہوسکتے ہیں اور اس سے بنیاد پرست مسلم رہنماو¿ں کو امریکہ کے خلاف متحد ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: White house weighs designating irans revolutionary guard a terrorist group in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply