کانگو کے صدر کے خلاف مظاہرے کے دوران تشدد ، 44 افراد ہلاک

کنشاسا :افریقی ملک کانگو میں صدر جوزف کابیلا کی مخالفت اور صدارتی انتخابات میں تاخیر کے خلاف احتجاج میں گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران ہونے والے تشدد میں چھ پولیس اہلکار سمیت کم از کم 44 افرادمارے جا چکے ہیں۔ انسانی حقوق واچ نامی ادارے نے دعوی کیا کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 37 لوگ مارے گئے جبکہ مظاہرین کی جانب سے کی گئی فائرنگ اور پتھراؤ میںچھ پولیس جوان ہلاک ہوئے۔
نیویارک میں واقع انسانی حقوق تنظیم کے لئے افریقی محقق ایدا ساوئر نے کہا کہ دو روز سے جاری جھڑپوں میں 20 افراد مارے گئے تھے جبکہ گذشتہ24گھنٹے کے دوران مزید 17 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیر داخلہ اکوارسٹے بوشاب نے کہا کہ ریلی کے دوران بھڑکے تشدد میں 17 لوگوں کی موت ہو ئی، جن میں تین پولیس والے ہیں۔
دوسری جانب ملک کی اپوزیشن اصلاح پسند فورس برائے اتحاد و یکجہتی (ایف او این یو ایس) کے صدر جوشیک اولونگ کوئے نے دعوی کیا کہ اس لڑائی میں 53 لوگ مارے گئے ہیں مگر مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ اس لڑائی کے دوران 25 مظاہرین کو گولی مار دی گئی۔ کابیلا 2001 میں اپنے آنجہانی والد کی جگہ پر اقتدار میں آئے تھے۔ ملک کے آئین کے مطابق کوئی بھی دو مرتبہ سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا۔ باغیوں نے ان پر اقتدار میں برقرار رہنے کے لئے انتخابات میں تاخیر کا الزام لگایا ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Violent street clashes over congo election leave at least 44 dead in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
Tags:

Leave a Reply