امریکہ کوطالبان سے مصالحت کے لیے ہندوستان وپاکستان سے تعاون درکار

واشنگٹن:امریکہ افغانستان میں استحکام لانے اورمصالحت کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ایک نیا لائحہ عمل مرتب کررہا ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے نئے مالی سال کے لیے اپنی مالی ترجیحات کے حوالے سے سالانہ رپورٹ میں اس نئی سوچ کو جنوب ایشیا کے لیے امریکہ کی نئی پالیسی کا کلیدی جزو کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان سے مصالحت کے عمل میں پاکستان اور ہندوستان کا تعاون درکار ہوگا۔
وزارت خارجہ کے انسپکٹر جنرل اسٹیو اے لینیک نے کہا ہے کہ افغانستان میں پیش رفت کرنے اور حالات پر قابو پانے کی خاطر ہمیں پاکستان اور ہندوستان کے بارے میں نئے نقطہ نظر پر کام کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہیں ختم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا: افغان حکومت اپنی عوام کو تحفظ فراہم کر سکے، اس کے لیے طالبان سے مصالحت اور افغان حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی پالیسی کو لے کر چلنا ہوگا۔
وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی معاونت کے پروگرام پر نگرانی کرنے کے لیے کوئی نمائندہ موجود نہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکی سیکیورٹی پالیسیوں سے پاکستان کے ساتھ رابطوں میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امن کے مسئلہ کو بہانہ بنا کر پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی اور نئی افغان پالیسی میں پاکستان کے حوالے سے نظریہ تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ جس پر پاکستانی اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا تھا ۔

Title: us working on new approach with india pakistan on afghanistan | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply