امریکی جج نے کلاس روم میں پستول لانے پر پابندی کا پروفیسروں کا مطالبہ خارج کر دیا

ٹیکساس:امریکہ میں ٹیکساس یونیورسٹی کے تین پروفیسروں نے اپنی کلاس میں پستول لانے پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تجویز پیش کی جس کو آج ایک امریکی جج نے ٹھکرا دیا۔ ٹیکساس صوبے میں اس ماہ ایک قانون کے تحت کچھ طلباکو کلاس روم میں پستول لانے کی اجازت دی گئی تھی۔
پروفیسروں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے حمایت یافتہ اس قانون کی وجہ سے تعلیمی آزادی کے نام پر سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ یکم اگست کو نافذ اس قانون کے مطابق 21 سال یا اس سے زیادہ عمر کا کوئی بھی طالب علم کلاس اور یونیورسٹی کے کسی بھی مرکز پر پستول لے جا سکتا ہے۔
امریکی جج لی ??ل نے کہا کہ پروفیسر کلاس روم میں پستول لانے پر پابندی لگانے کے سلسلے میں اپنا موقف صحیح طریقے سے نہیں رکھ پائے ہیں۔ اس لئے ان کا یہ مطالبہ مسترد کیا جاتا ہے۔
جج نے کہا کہ اس معاملے میں ٹیکساس کے قانون سازوں کے علاوہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کئی ٹھوس قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے کل ایک بیان میں کہا کہ قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو لائسنسی پستول نہ لانے دینا ناانصافی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Us judge denies texas professors who sought gun ban in their classrooms in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply