اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف امریکی کارروائی کی ترک صدر اردوغان نے سخت مذمت کی

استنبول:ترکی کے صدر طیب اردوغان نے اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف امریکی مظاہرین پر حملہ کے مجرمانہ الزامات عائد کرکے وارنٹ گرفتاری جاری کردینے پر امریکہ کی نہایت ہی سخت الفاظ میں مذمت کی اور یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ اپنے سکیورٹی اہلکار کے خلاف امریکی حکام کی طرف سے جاری گرفتاری وارنٹ کے خلاف سیاسی طور پر لڑیں گے۔ ترکی کے براڈکاسٹر سی این این ترک نے آج مسٹر اردوغان کے حوالے سے مزید کہا کہ یہ کیسا قانون ہے اور کہاںکا طریقہ ہے۔اگران کے باڈی گارڈز ان کا تحفظ نہیں کریںگے تو وہ انہیں امریکہ کیوں لاتے ۔ دریں اثنا ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر متعین ترکی جان ارباس کو طلب کر لیا۔
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ واشنگٹن استغاثہ نے گزشتہ ماہ مسٹراردوغان کے امریکی دورے کے دوران واشنگٹن میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں دس سے زائد ترک سیکورٹی اور پولیس افسران پر الزام طے کئے تھے۔ سی این این ترک نے مسٹر اردوغان کا اس سلسلے میں تفصیلی تبصرہ کے بارے میں نہیں بتایا لیکن ایک اخبار صباح کے مطابق مسٹر اردوغان نے کہا کہسیاسی، سفارتی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہم سب کچھ کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ 16 مئی کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ترکی سفیر کی رہائش گاہ پر ہونے والی جھڑپ میں نو مظاہرین زخمی ہو گئے تھے اور امریکہ-ترکی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ ترکی کے صدر طیب اردوغان کے واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دن ہی یہ جھڑپ ہوئی تھی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Turkish president assails u s over charges against his guards in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply