شام میں مزیدفوج بھیجنے کا فرانس کے اقدام کو حملہ تصور کیا جائے گا: ترکی

انقرہ:ترکی نے فرانس کو شام میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کے خلاف انتباہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اس اقدام کو شام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔فرانس اور ترکی کے درمیان کشیدگی اس وقت بہت بڑھ گئی جب جمعرات کو فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون نے کرد اور عرب لڑاکوں پر مشتمل شامی جمہوری محاذ (ایس ڈی ایف) کے ایک وفد سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے بعد کرد حکام نے کہا کہ فرانس کرد وائی پی جی ملیشیا کے زیر تسلط ایک شمالی شامی شہر منبیج میں تازہ دم فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
لیکن فرفانس نے اس کی تردید کی ہے۔ترکی کے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر فرانس نے شمالی شام میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کے حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھایا تو اسے بین الاقامی قانون کے خلاف ناجائز اور غیر قانونی قدم سمجھا جائے گا اور درحقیقت یہ حملہ سمجھا جائے گا۔

Title: turkey says france sending troops to syria would be invasion | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply