موصل شہر میں داعش کے خلاف جنگ میں ترکی تماشائی محض نہیں بنا رہ سکتا

دبئی:ترکی نے کہا ہے کہ اس کی فوج عراق کے موصل شہر کو انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش)کے قبضے سے چھڑانے کےلئےلڑی جانے والی جنگ میں خاموش تماشائی بنا نہیں رہ سکتی۔
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدیریم نے کل کہا ”عراقی شہر موصل کو آئی ایس کے قبضے سے چھڑانے کے لیے چلائی جا رہی مہم میں ترکی خاموش نہیں رہ سکتا۔ اس مہم میں ترکی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ عراق اور امریکہ نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔“
مسٹر یلدیریم نے کہا کہ اس مہم میں دونوں ممالک نے شیعہ جنگجوؤں اور کرد علیحدگی پسندوں کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ دوسری طرف عراق کے وزیر اعظم حیدر امام العبادی نے امریکہ سے کہا ہے ”مہم میں ابھی ترکی فوج کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ترکی بھی اس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن اس معاملے کو عراقی فوج سنبھالے گی اور عراقی ہی موصل شہر اور دیگر علاقوں کو دہشت گرد تنظیم سے آزاد کرائیں گے۔“
واضح رہے کہ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل کو آئی ایس کے قبضے سے چھڑانے کے لئے عراق اور امریکہ نے گزشتہ چھ دنوں سے مہم چھیڑ رکھی ہے۔ 2014 سے آئی ایس کے مقبوضہ موصل شہر کو چھڑانے کے لئے کرد جنگجوؤں کے تعاون سے عراقی فوج اور امریکہ کی قیادت میں مہم چلائی جا رہی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Turkey insists its forces cannot remain idle in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply