ترک عدالت سے فتح اللہ غولن کو روسی سفیر کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم جاری

انقرہ:ترکی کی ایک عدالت نے امریکہ مقیم مسلم مذہبی رہنمافتح اللہ غولن اور سات دیگر کو 2016میں روسی سفیر متعین ترکی کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق عدالت کا یہ حکم روسی صدر ولادمیر پوتین کے دورہ ترکی سے ایک روز پہلے ہی جاری کیا گیا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ اس ہلاکت کے پس پشت غولن گروپ کا ذہن کارفرما تھا۔لیکن غولن اس کی متواتر تردید کرتے رہے ہیں۔ترکی نے غولن اور ان کے حامیوں پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال ناکام بغاوت کی تھی جس میں کم از کم300افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد ملک گیر پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔
یاد رہے کہ روسی سفیر متعین ترکی آندری کارلوف کو دسمبر2016میں انقرہ میں ایک نمائش میں تقریر کے دوران ایک پولس اہلکار نے جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھا گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ وہاں موجود پولس نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔حملہ آور پولس اہلکار نے’ اللہ اکبر‘ اور’ حلب کو نہیں بھول سکتے ‘کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنی بندوق سے سفیر پر فائر جھونک دیا تھا۔
اس کے نعروں سے بظاہر ایسا محسوس ہوا تھا کہ وہ شام میں روس کی مداخلت کا حوالہ دے رہا تھا۔پوتین منگل کو ترکی کے دوروزہ دورے پر انقرہ پہنچے ہیں ۔جہاں وہ اردوغان اور ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔یہ تینوں ممالک شام میں عدم پھیلاؤ زون قائم کرنے کے واسطے آستانہ امن مذاکرات کے ضامن ہیں۔

Title: turkey court orders arrest of fethullah gulen over killing of russian envoy | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply