ترکی نے امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

انقرہ: گذشتہ ہفتہ صدر رجب طیب اردوغان کے دورہ امریکہ کے دوران واؤٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ترک صدر کے محافظین کی سخت کارروائی اور اس پر امریکی پولس کی جوابی کارروائی نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب ترکی نے اپنے سفیر متعین امریکہ مولو چاؤش اوغلوکو ترکی واپس بلا لیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر اردوان کے دورہ امریکا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وائٹ ہاوس کے باہر مظاہرین نے ترک صدر کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
ترکی صدر کے محافظوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ جس کے دوران ترک صدر کے محافظوں نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔اس واقع کی اطلاع ملنے پر واشنگٹن ڈی سی کی میٹرو پولیٹن پولیس نے موقع پر پہنچ کر ترک صدارتی محافظوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں پر امن مظاہرہ کرنے والے لوگوں سے دور کر دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے محافظوں پر تنقید کی اور کہا کہ ترک صدر کے محافظوں کو اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے، امریکا میں ہر شخص کو آزادی رائے حاصل ہے اور ہمیں لوگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے نیز ہم پر امن مظاہرین پر تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں۔اس کے جواب میں ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکی سیکیورٹی اداروں کے رویے کو جارحانہ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے ترکی میں متعین امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا اور واشنگٹن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Turkey calls back ambassador from us in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
Tags: , ,

Leave a Reply