ٹرمپ اورشاہ سلمان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور فوجی تعاون میں شراکت بڑھانے پر متفق

بیروت:امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور خادم حرمین شریفین و فرمانروائے سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے آج ٹیلی فون پر تقریباً ایک گھنٹے تک بات کرکے یمن اور شام میں قیام امن پر زور دینے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد، دوطرفہ فوجی تعاون اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق ظاہر کیا۔ یہ اطلاع ایک سینئر سعودی ذرائع نے دی۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور بادشاہ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کئی اہم مسائل پر اتفاق ہواجس میں دونوں ملک دہشت گردی، انتہا پسندی اور اس کی مالی اعانتکے خلاف جنگ میں شراکت بڑھانے پر متفق ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا اعلان صحیح وقت آنے پر کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی مسئلے پر بات چیت کرنے کے ساتھ امید ظاہر کی کہ اس سے دونوں ممالک میں زیادہ روزگار پیدا ہوں گے۔
دونوں ممالک نے علاقے میں ایران سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں بھی اپنی رائے رکھی۔ ذرائع کے مطابق عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام(داعش) کے خلاف جنگ میں امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوج میں شامل ہو کر سعودی عرب اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے 22 رکنی عرب لیگ نے ٹرمپ کے مسلم اکثریت والے ممالک کے خلاف تارکین وطن کی پالیسی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر کل گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پابندی غیر منصفانہ ہے۔

Title: trump saudi king agree to back safe zones in syria and yemen | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply