امریکی فوجی افسرنے ترک وزیر اعظم سے ملاقات کر کے فوجی بغاوت کی مذمت کی

واشنگٹن: امریکہ کے فوجی افسر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے آج انقرہ میں ترک وزیر اعظم سے ملاقات کر کے ملک میں گذشتہ ماہ ہونے والی ناکام بغاوت کے واقعہ کی سخت مذمت کی۔
ترک وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کر کہا کہ جنرل ڈنفورڈ نے آج وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ترکی میں جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے ناکام بغاوت کی مذمت کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ”امریکہ ہمارا اہم دوست ہے اور دونوں قومی اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والی قوتوں اور دہشت گردوں کے خلاف مل کر مقابلہ کریں گے”۔
تاہم امریکی افسر کی وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے پہلے انقرہ میں امریکی حکام کے خلاف احتجاج دیکھنے کو ملا۔ کچھ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر لے رکھا تھا جس پر لکھا تھاکہ “بغاوت کے کی سازش کرنے والے ترکی سے باہر جاؤ۔ ڈنفورڈ اپنے گھر جاؤ اور گولن فتح اللہ کو ہمیں سونپو”۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں مقیم عالم دین فتح اللہ گولن پر دہشت گردوں سے تعلق رکھنے اور ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کی سازش کرنے کا الزام ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی ایک امریکی کمانڈر پر بغاوت کے سازشیوں کے موقف کی حمایت کرنے کا الزام لگایا تھا اور اس معاملے میں مغربی ممالک کی تنقید کی تھی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Top us officer meet turkish pm in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply