رسوائی کے تابوت

سمیع اللہ ملک(لندن)
افغان طالبان نے مذاکرات سے انکارکرکے امریکاافغانستان سمیت چین اورپاکستان کوبھی تشویش میں مبتلاکردیاہے۔پاکستانی مشیرخارجہ کی جانب سے امریکامیں دیاگیابیان بھی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ سمجھاجارہاہے جس میں انہوں نے عالمی میڈیامیں یہ بیان دیاتھاکہ ہم طالبان پرکچھ اثررکھتے ہیں ،یہاں پران کاعلاج ہورہاہے،اگروہ ایسانہیں کریں گے توہم ان کاعلاج معالجہ بندکرکے ان کوملک بدرکردیں گے۔اس بے وقت بیان پرطالبان نہ صرف خاصے ناراض ہیں بلکہ طالبان ذرائع نے بتایاکہ ہماری شوریٰ اور ہمارے تمام اہم رہنماءسارے افغانستان میں ہیں ۔پاکستان ایک اسلامی ملک اوراس کے عوام ہمیں حقیقی بھائیوں سے زیادہ عزیزہیں اوران کی امن کی تمام کوششوں کی دل سے قدر کرتے ہیں تاہم افغانوں نے نہ پہلے دھمکی پرمذاکرات کئے ہیں اورنہ اب کریں گے۔امریکاگزشتہ چودہ برسوں سے دھمکیوں پردھمکیاں دے رہاہے ،اڑتالیس ممالک کے ساتھ مل کربھی طالبان کاکچھ نہیں بگاڑسکا،تواب کیاکرلے گا؟طالبان کوعوام کی حمائت حاصل ہے ،دھمکی و دھونس سے کام نہیں چلے گا۔مذاکرات کیلئے کم ازکم دوشرائط ہیں جن میں قیدیوں کی رہائی اورافغان طالبان رہنماو¿ں کی سفری پابندیاں ختم کرناشامل ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات سے انکارکے بعدافغانستان کے طول وعرض میں نہ صرف نئے حملے شروع ہوگئے ہیں بلکہ اس حوالے سے افغان طالبان نے موسم بہارمیں بڑی کاروائیوں کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔حقانی نیٹ ورک کے ذرائع کے مطابق جس طرح مذاکرات کیلئے خلوص ِ نیت سے چین اورپاکستان نے کوششیں کی ہیںاورافغان حکومت اورامریکاجس طرح دھمکیا ں دے رہے ہیں ،اس کے بعدمذاکرات توہرگزنہیں ہوسکتے اورنہ ہی اس طرز، عمل سے افغان طالبان کومرعوب کیاجاسکتاہے۔ہم پہلے بھی امن کے حق میں تھے اورآج بھی ہیں اورہماراافغانستان کے باہرکوئی ایجنڈانہیں ہے اس لئے افغان مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات مشکل نہیں تاہم امریکامذاکرات نہیں چاہتاکیونکہ امریکا دھمکیاں دیتاہے۔ابھی چنددن پہلے امریکی ایڈمنسٹریشن نے دھمکی دی ہے کہ وہ افغانستان سے اپنی فوج نہیں نکالے گا۔طالبان ذرائع نے اس بیان کافوری نوٹس لیتے ہوئے جواب دیاہے کہ اگرامریکاافغانستان سے نہیں نکلناچاہتاتونہ نکلے مگریادرکھے کہ جس طرح پچھلے چودہ برس سے اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کیلئے جہادجاری ہے ،اب اگلے چودہ برس کیلئے بھی ہم تیارہیں کیونکہ ہمارے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں جبکہ امریکامزیدتباہی برداشت نہیں کرپائے گا کہ اس کی معیشت کی زبوں حالی اب ساری دنیاکے سامنے ہے۔
دراصل امریکامذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہاہے ،دھمکیوں سے کام نہیں چلے گااورنہ ہی حقانی نیٹ ورک سے مذاکرات قبول کئے جائیں گے۔دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ اگرطالبان مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں توامریکانہ صرف افغانستان میں اپنے قیام کی مدت بڑھادے گا بلکہ اپنی افواج میں بھی اضافہ کردے گا اس لئے افغان طالبان فوری طورپرمذاکرات کی میزپرآئیں جبکہ طالبان ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ حال ہی میں امریکانے افغانستان میں مزیددوہزارفوجی تعینات کئے ہیں جو کہ عالمی برادری کے ساتھ کئے گئے وعدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس طرح طالبان کاموقف درست ثابت ہواہے کہ امریکاانتہائی ناقابل یقین ہے اوراب توکوئی بھی امن مذاکرات کیلئے امریکاکے رویے کی ضمانت دینے کیلئے تیارنہیں۔
دوسری جانب افغانستان میں خونریزلڑائی کی وجہ سے جنوب اورجنوب مشرقی افغانستان سے انخلاءپرلوگوں نے غورشروع کردیاہے کیونکہ طالبان اورامریکاکے درمیان مذاکرات کا عمل ٹوٹنے کے بعدامریکاایک بارپھرافغانستان میں کاروائی شروع کرسکتاہے جس سے آئندہ افغانستان میں خونریزتصادم شروع شروع ہوسکتاہے۔امریکی دھمکیوں کے بعد طالبان نے اپنی نئی حکمت عملی ترتیب دیکراپنے کمانڈروں کومکمل تیاررہنے کاحکم دے دیاہے اورعنقریب ہی امریکی افواج کے خلاف بڑی کاروائیوں کاخدشہ مزیدبڑھ گیاہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی معاملات طے ہونے کے بعدامریکاایران کی جانب سے مطمئن ہیں،اس لئے وہ افغانستان میں مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کرسکتے ہیں جبکہ تازہ دم دوہزارفوجیوں کی حالیہ کھیپ کی آمداسی عزم کی چغلی کھاتاہے جبکہ امریکاکاکہناہے کہ اس نے اس تازہ دم کھیپ کوافغان فوج کوتربیت دینے کیلئے تعینات کیاگیاہے جبکہ طالبان کاکہناہے کہ ہماراموقف درست ثابت ہواہے کہ امریکاافغانستان سے نکلنے کیلئے بالکل مخلص نہیں بلکہ افغانستان میں اپنے قیام
کوبڑھانے کیلئے مختلف بہانوں سے کام لیتارہے گا تاہم ایران کی طرف سے اطمینان حاصل کرنے کے باوجودموجودہ افغان حکومت مزیدجنگ کی قطعاًمتحمل نہیں ہوسکتے، اس لئے افغان حکومت کی شدیدخواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات جلدسے جلدشروع ہوں ،اس کیلئے گزشتہ دنوں افغان صدراشرف غنی نے افغان طالبان کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعدایک مرتبہ پھرطالبان کوامن مذاکرات پرآنے کی درخواست کررہاہے۔
حال ہی میںکابل میںموسم سرماکی چھٹیوں کے بعدشروع ہونے والے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاکہ اگرطالبان افغان ہیںتوانہیں امن کے عمل میں شامل ہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کوقتل کرنااسلام کے خلاف ہے۔افغان صدرنے کہاکہ ہمیں بدترین حالات کاسامناکرنے کیلئے تیاررہناچاہئے لیکن مشکل حالات کے باوجودمیں اب بھی امن کیلئے پرامیدہوں۔افغانستان امن چاہتاہے اوران کی خواہش ہے کہ ملک میں پائیدارامن قائم ہو۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ دشمن کوسردی میں سیکورٹی فورسزنے بغلان اورغزنی میں بہت نقصان پہنچایاہے ۔گزشتہ چندماہ میںسیکورٹی فورسزکے درمیان تعاون میں اضافہ ہواہے اورگزشتہ سال خواتین بھی فوج میں شامل ہوئی ہیں ۔افغانستان واحدملک ہے جہاں سے داعش بھاگ رہی ہے اوریہ ملک ان کیلئے قبرستان بن گیاہے۔انہوں نے کہاپاکستان اورافغانستان کوایک جیسے مسائل کاسامناہے، افغانستان میں جنگ القاعدہ نے شروع کی تھی جوافغان نہیں تھے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سیکورٹی فورسزکے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ افغانستان میں امن قائم کیاجاسکے!
ادھردوسری طرف افغان فورسزکے لڑائی کے بغیرہی ارزگان کے وسطی اضلاع کی فوجی چوکیاں بھی خالی کرکے پسپاہوگئیں ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ کاکہناہے کہ اسٹرٹیجک پسپائی سے ثابت ہوگیا کہ افغانستان کاکنٹرول اشرف غنی کے ہاتھ سے نکل رہاہے۔سیکورٹی فورسزکی اس غیرمعمولی پسپائی کی وجہ سے طالبان کی دوبارہ ان پرقبضے کی راہیں ہموارہوگئیں ہیں۔حال ہی میں سیکورٹی فورسزارزگان کے اضلاع میں بھی اپنی چیک پوسٹیں خالی کرکے بھاگ چکی ہیں جبکہ اس سے قبل موسیٰ قلعہ اورنوزادکاعلاقہ پہلے ہی خالی کیاجا چکا ہے ۔ ایسے موقع پرجب جب افغان حکومت اورطالبان میں مذاکرات کی بحالی کیلئے دباو¿بڑھتاجارہاہے ۔افیم کی پیداوارکیلئے معروف علاقوں کواشرف غنی حکومت خفیہ معاہدوں کے نتیجے میں خالی کررہی ہیں۔
ادہرپارلیمنٹ سے خطاب میں اشرف غنی نے داعش کوننگرہارمیں مکمل شکست دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک بارپھرطالبان کوامن مذاکرات میں جنگ وامن میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا۔امن واستحکام کیلئے افغانستان میں اتفاق ِ رائے موجودہے،مشکل حالات کے باوجودمیں امن کیلئے پرامیدہوں لیکن بدترین حالات کاسامناکرنے کیلئے بھی تیارہیں۔ اشرف غنی سے علماءکونسل کے وفدنے مولوی قیام الدین کاشاف کی سربراہی میں ملاقات کی۔اس موقع پرعلماءنے عسکریت پسندوں سے مفاہمتی عمل میں شمولیت کی اپیل کی ۔مولوی ذبیح اللہ نے کہاکہ تمام فریق مفاہمتی عمل آگے بڑھائیں۔افغان صدرکاکہناتھاکہ ان کی حکومت نے امن مذاکرات کیلئے پیشگی شرائط نہیں رکھی لیکن دیکھنایہ ہے کہ وہ افغان طالبان جنہوں نے شجاعت کے ایسے کارنامے سرانجام دیئے ہیں جن کوسن کر قرونِ اولیٰ کے مسلمانوںکی یادتازہ ہوجاتی ہے اوردنیاکی سب سے بڑی فرعونی قوت اوراس کے اتحادیوں کوایسے لوہے کے چنے چبوائے ہیں کہ آج بھی اس کے جہاز”سی ون تھرٹی“ رات کی تاریکی میںاپنی ”رسوائی کے تابوت“چھپاکرلے جارہے ہیں ۔

رابطہ کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The taliban and obstacles to afghanistan peace talks in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply