راج ناتھ سنگھ کا بحرین کے رہنماؤں سے دہشت گردی سمیت متعدد امور پر ہمہ پہلو تبادلہ خیال

نئی دہلی: وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے، جو ،ان دنوں بحرین کے تین روزہ دورے پر ہیں، وہاں اپنے ہم عہدہ وزیر لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد بن عبداللہ الخلیفہ سے بحرین کے دارالحکومت مناما میں، کل تفصیلی گفت وشنید کی ۔ طرفین نے ایک مفید گفت وشنید کا اجلاس منعقد کیا جس میں بحرین کے داخلی امو رکے وزیر نے وزیر داخلہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا اور اپنی افتتاحی تقریر میں لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد نے کہا کہ بحرین مشرق اور مغرب دونوں سے مربوط رہا ہے اور اس کی ایک باقاعدہ تاریخ ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ بحرین کے خصوصی تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مملکت میں بڑی تعداد میں ہندوستانی برادری موجود ہے۔
مسٹر شیخ راشد نے کہا کہ بحرین ایک روادار، پیکرامن اور وسیع النظر ملک ہے۔لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد نے مسٹر راجناتھ سنگھ کو ان مندروں اور کمیونٹی مراکز کو بھی ملاحظہ کرنے کی دعوت دی جن سے بحرین کے معاشرے کی گوناں گونی کا اظہار ہوتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد نے کہا کہ بحرین میں مقامی اور بھارتی افراد نسل در نسل رہتے آئے ہیں اور دونوں حکومت کے اضافی ترقیاتی کاموں میں تعاون دیتے رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد نے دونوں ممالک کے مابین دستخط شدہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر جس کا تعلق سلامتی تعاون کو از سر نو نافذ کرنے ، دہشت گردی کے انسداد خصوصاً علاقائی دہشت گردی جیسے معاملات سے ہے ، کے سلسلے میں بحرین۔ ہندوستانی مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی اولین میٹنگ کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بحرین دہشت گردی بھگت چکا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کا جانی اتلاف بھی ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ بحرین کے داخلی امور کے وزیر نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور اپنی باہمی اور علاقائی سلامتی کو مستحکم بنانے کے سلسلے میں باہم مل جل کر کام کرنے اور آگے بڑھنے کی امید رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو ان امکانات کا جائزہ لینا چاہئے جن کے تحت ہم باہم مل جل کر چیلنجوںکا سامنا کرسکتے ہیں اور وفود اور ماہرین کے تبادلے کے توسط سے طے شدہ فیصلوں کے سلسلے میں آگے بڑھ سکتے ہیں اور مشترکہ نصب العینوں کے حصول کیلئے اقدام کرسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بحرین کے داخلی امو رکے وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں دوست ممالک کے مابین ا تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات محبت اور امن پر مبنی رہے ہیں۔ میٹنگ کے دوران راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بحرین کا معاشرہ ایک مہذب اور کھلا ہوا معاشرہ ہے جو اتحاد اور بقائے باہمی کے اصول میں یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی دوروں سے باہمی تعلقات کو فروغ ہوگا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کیلئے ایک زبردست خطرہ ہے اور ہندوستان بحرین کے ساتھ مشترکہ انسداد دہشت گردی تعاون کو از سر نو مستحکم کرنے کیلئے مستعد ہے۔ طرفین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ فروری 2014 میں بحرین کے سلطان کا ہندوستان کا تاریخی دورہ ایسا تھا جس نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط شراکت داری کی بنیاد ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے مواقع فراہم کیے۔ طرفین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی دوروں سے دونوں ممالک کے مابین اہم معاہدوں کے نفاذ میں مدد ملی ہے۔
وزراءنے دسمبر 2015 میں بحرین کے داخلی امو رکے وزیر کے دورہ بھارت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسی دورہ کے دوران بین الاقوامی انسداد دہشت گردی اور منشیات کی تجارت کی روک تھام اور دیگر اعصاب کو متاثر کرنے والی اشیاءاور کیمیاوی مضر اشیاء کی تجارت کی روک تھام سے متعلق تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ طرفین نے اتفاق کیا کہ ہر طرح کی دہشت گردی کی پرزور مخالفت کی جانی چاہئے کیونکہ دہشت گردی تمام ممالک اور تمام برادریوں کیلئے ہلاکت خیز ہے۔ طرفین نے دہشت گردی کو کسی قوم، مذہب یا ثقافت سے جوڑنے کی بات کو بھی خارجکیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک کا دہشت گرد کسی دوسرے ملک کے ذریعے سورما بناکر نہیں پیش کیا جاسکتا اور تمام ممالک کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے اور کسی دیگر ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے بچنا چاہئے اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے سے یہ چاہے جہاں کہیں بھی ہو، نمٹنا چاہئے۔طرفین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے معاہدے کو سرگرمی سے نافذ کریں گے جس کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
طرفین نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کمیٹی کی باقاعدہ میٹنگیں منعقد ہونی چاہئیں اور یہ میٹنگیں معاہدے کی شقوں کے مطابق ہونی چاہئے۔ طرفین نے جاری دہشت گردی سے متعلق جانچ پڑتال کے سلسلے میں اطلاعات کے باہمی تبادلے کے سلسلے میں تعاون کرنے ، جرائم کی جانچ پڑتال کی اطلاعات کے باہم تبادلے ، دہشت گردی اور منشیات کی تجارت سے متعلق اطلاعت کے تبادلے ، دہشت گردی کیلئے سرمایہ فراہم کرنے اور منظم جرائم کے وسائل کے متعلق اطلاعات فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق دہشت گردانہ سرمائے کو ضبط کرنے ، نوجوانوں میں انتہاپسندی کا مطالعہ کرنے اور معاملات کو قابو میں لانے کیلئے انٹرنیٹ کے استعمال ، ای۔ سیکورٹی اور حوالہ کاروبار وغیرہ کے سلسلے میں بھی اطلاعات کے باہمی تبادلے پر اتفاق کیا۔ طرفین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ سلامتی افسروں کیلئے دونوں ممالک میں جو تربیتی کورس اور مذاکرات وغیرہ منعقد کرائے جاتے ہیں ان میں شرکت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جرائم سے نمٹنے میں مہارت کا تبادلہ ہوسکے اور دیگر غیرروایتی خطرات کا سامنا کیا جاسکے۔ انہوں نے انسانوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم اور کاروبار کے سلسلے میں باہمی تعاون اور دونوں ممالک میں ابھرتے ہوئے سلامتی خطرات کے سلسلے میں باہمی تعاون کا خیرمقدم کیا اور سلامتی تعاون کو مستحکم بنانے کیلئے اعلیٰ سطحی گفت وشنید جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Terror emanating from pak serious concern for india rajnath singh in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply