چین کا’ ایک پٹی ایک راستہ پراجکٹ“ اور یورپ پر اثرات پر ڈیموکریسی فورم کا لندن میں سمینار

لندن :یہاں5فروری کودا ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام لندن یونیورسٹی کے سنیٹ ہاو¿س کے چانسلر ہال میں ’چین کی ایک پٹی،ایک راستہ“ پر منعقد سمینار میں بی آر آئی کے عالمگیریت کے نتائج ،شفافیت کے فقدان اور چینی سافٹ پاور پر مقررین نے سیر حاصل بحث کی ۔کارروائی کی صدارت کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں دا ڈیموکریسی فورم کے صدر لارڈ بروس نے ایک پٹی ایک راستہ کے توسط سے چینی توسیع پسندی پر عالمی تشویش و اندیشوں اور چین کی بار بار کی جانے والی ان یقین دہانیوں پر کہ اس کا یہ پراجکٹ نہ تو جغرافیائی حکمت عملی کے تصور کےساتھ ہے اور نہ ہی فوجی اتحاد کی نیت سے ہے بلکہ خالصتاً اقتصادی تعاون کا پراجکٹ ہے بڑے تیکھے انداز میں اظہار خیال کیا۔انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ اتنی کثیر لاگت کے ساتھ تیار کیا جانے والا یہ پراجکٹ کیا محض تجارتی و سلامتی کا نیٹ ورک ہے یا بے شرمی سے اپنے قومی مفاد سے وابستہ کیا جانے والا کثیر سربراہی پراجکٹ ہے۔ لارڈ بروس نے2016 میں یورپی یونین میں کثیر چینی سرمایہ کاری کی روشنی ایک پٹی ایک راستہ کی مغرب رخی رفتار پر یورپی کمیشن کا ردعمل مدنظر رکھتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ واضح طور پر نظر آنے والی اس اقتصادی توسیع پسندی کو زیادہ دیر تک نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ا ور نہ ہی اس پر کوئی سوال اٹھائے بغیر رہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے اصل چیلنج تو ایک اجتماعی محاذ برقرار رکھنے کا ہے۔ انہوں نے اپنی بات یہ کتے ہوئے ختم کی کہ ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ چین واقعتاً یورپ سے کیا چاہتا ہے کیونکہ وہ یورپ کی کشادگی اور دولت کو اپنے لیے سودمند سمجھتا ہے۔

اپنی زیر صدارت پہلی نشست کا آغاز کرتے ہوئے ہنری جیکسن سوسائٹی میں ایشیا اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان ہیمنگز چین کی خارجہ پالیسی، امداد، بنیادی ڈھانچہ، تکنالوجی اور سمندری سیکورٹی کے درمیان رابطہ اور عالمگیریت کے جغرافیائی و سیاسی نتائج اور پوری دنیا پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات پر روشنی ڈالی اور اس امر کی نشاندہی کی کہ ایک پٹی ایک راستہ سلامتی کے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ مواقع بھی بہم پہنچاتا ہے۔

سینٹر فار رشیا یورپ ایشیا اسٹڈیز (سی آر ای اے ایس) کی بانی اور ڈائریکٹر تھریسا فالین نے’ چین کی ایک پٹی ایک راستہ ‘کی عیاری اور اس پر یورپ کا ردعمل کاجائزہ لیتے ہوئے اس کے حوالے سے اپنی رائے پیش کیا اور ایک پٹی ایک راستہ ، یورپ میں چینی سرمایہ کاری،ایف ڈی آئی اسکریننگ،جغرافیائی سیاست اور عوامی جمہوریہ چین کی چالاکی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے چین کے مشکوک اور لالچ بھرے بی آر آئی پراجکٹ اور یورپ کی سراپا مبنی بر قوانین تجارتی فکر میں موازنہ کیا اور قرض کے جال کے مسئلہ پر جس سے نہ صرف سری لنکا جیسے ممالک سخت قوانین کے باعث متاثر ہیں بلکہ بی آر آئی سے سربیا اور مونٹے نیگرو سمیت یوپری یونین کے کئی رکن ممالک بیٹھ گئے ہیں ۔ بی آر آئی پراجکٹوں کے لیے چین کو دیے گئے قرض کے نتیجہ میں انممالک کی یورپی یونین میں شمولیت مشکل ہو جائے گی۔محترمہ فالین نے ان بڑھتے اندیشوں میں کہ بی آر آئی کی کوشش دنیا کو چینی مفادات کے مطابق ڈھالنا ہے چین اور یورپ کے درمیان اقدار کے تصادم کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے یورپ کے اندر کام کر رہی چینی کمپنیوں کی مزید شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔اور کہا کہ 16پلس ون میں چینی سرمایہ کاری کئی یورپی یونین کے اور یورپی یونین سے الحاق شدہ ممالک کو یورپ سے اور دور کر رہی ہے۔انہوں نے چینی منڈی تک لے جانے کے لیے چین کی نرم سفارت کاری کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔انہوں نے انتباہ دیا کہ چین یورپ کونہیں بلکہ یورپ چین کو زیادہ نکھار اور سنوار رہا ہے، اور ایک منقسم یورپ چین کے لیے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مترادف ہے۔وہ اسی موقع کا منتظر ہے۔ چونکہ بی آر آئی یہاں مستقل قیام کے لیے آرہا ہے اس لیے ہمیں اپنی جمہوریتوں بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرنی چاہئے۔انہوں نے اپنی بات یہ کہتے ہوئے مکمل کی جہاں تک چین کا تعلق ہے تو تعمیری نگاہ رکھنا وقت کا تقاضہ ہے۔

TDF seminar:Moving forward, pushing back



ایشیا پیسیفک پروگرام، چیتھم ہاؤس میں ایسوسی ایٹ فیلو اینڈریو کینی نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ کس طرح ایک پٹی اور ایک راستہ سے مزاحمت مزیداچھے ڈھنگ سے کی جا سکتی ہے اس پر نظر دوڑائی کہ کس طرح شریک ممالک بی آر آئی کے اثرات و شرائط کی مزاحمت کر رہے ہیں ۔ جہاں ایک جانب صدر چین شی کی خارجہ پالیسی کی ریڑھ کی ہڈی بی آر آئی چین کے آئین میں لکھ دیا گیا ہے وہیں مسٹر کینی نے افریقہ و ایشیا میں کئی پراجکٹوں کو منسوخ ، مسترد اور پھر سےگفت و شنید کیے جانے جیسے کئی منفی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے اس چینی پراجکٹ کی پانچ سال میں تکمیل کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔مزید برآں بہت سے ممالک بی آر آئی پرچین کے ساتھ یادداشت مفاہمت پر دستخط کے خواہاں ہیں اور چین کی توجہ ”کوالٹی “ پراجکٹوں پر ہے۔مسٹر کینی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہ بی آر آئی ابھرتی معیشت کی ضرورتوں کی بنیادی ڈھانچوں میں سرمایہ کاری سے، جو کہ اقتصادی فروغ کی کنجی ہے، تکمیل کر رہا ہے کہا کہ یہ زبردست انتباہ کے ساتھ ہوا ہے۔کیونکہ مالی مدد رعایتی شرائط پر نہیں ہیں۔اور بدعنوانی سے نمٹنے جیسے معاملات بی آر آئی کے بہت سے ممالک کی طرح چین کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔لیکن بی آر آئی کا ابہام نہ صرف چین کے لیے بلکہ مغرب کے لیے بھی سود مند ہے ۔ مغربی ممالک کی حکومتیں اور کثیر فریقی ادارے مثبت باتوں کو اپنائیں گے اور منفی معاملات سے کنارہ کشی کریں گے۔

گریٹ برٹین چائنا سینٹر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کیتھرین رینڈ نے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے لیے بی آر آئی کی پیچیدگیوں پر توجہ مرکوز رکھی اور کہا کہ بی آر آئی کا ایک دلچسپ پہلو سیاست اور قانون میں تعلق ہونا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی کی قیادت میں پارٹی کی حالت مستحکم ہوئی ہے ۔اور شی نے مزید موثر انداز سے حکمرانی کے لیے قانون کو پارٹی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ چین عدالتی اصلاحات اور عدلیہ کی پیشہ واریت پر توجہ مرکوز رکھنے کے ساتھ ساتھ مغرب کی آزاد عدلیہ کو چین کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لیے اصلاحات اس سمت نہیں ہیں جدھر مغرب چاہتا ہے۔ چین کو ایک جو سب سے بڑا چیلنج درپیش رہے گا وہ تجارت کویقین دہانی بہم پہنچانا ہے۔انہوں نے عدالتوں میں ڈیجی ٹائزیشن اور عالمی سطح ہر چین کے ممکنہ رول اور مقتدرمغربی قانونی و عدالتی شخصیات کے ذریعہ بیلٹ اینڈ روڈ کے لیے توثیق کی چین کے نزدیک اہمیت پر بھی سیر حاصل روشنی ڈالی۔

دوسرے اجلاس کی صدارت جاپان اسٹوری بلاگ کے خالق اور ایشئین افئرز کے ایڈیٹر ڈنکن بارلیٹ نے کی ۔انہوں نے سمینار کے موضوع کی عصر حاضر میں اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج یہ معاملہ ایشیا میں سب سے زیادہ متنازعہ معاملات میں سے ایک ہے۔ اور ؓی آر آئی کے حامیوں اور مخالفین کے تصورات پر تبصرہ کیا۔

TDF seminar:Moving forward, pushing back


لاہور کے فورمین کرچئین کالج میں زہرہ اینڈ زیڈ زیڈ احمد فاؤنڈیشن کے ممتاز پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کہا کہ بی آر آئی عالمگیریت کا نتیجہ ہے جو بذات خود ٹیکنالوجی کا ثمرہ ہے ۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کی روشنی میں بی آر آئی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے چین کے اس موقف کو کہ شریک ممالک کے ساتھ اس کی بی آر آئی شرکت خالصتاً اقتصای بنیادوں پر ہے اور اس کا دعویٰ کہ اس پراجکٹ سے مقامی صلاحیت پیدا ہوگی اور پائیدار ترقی کو تعاون ملے گا۔انہوں نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے حوالےسے شفافیت کے فقدان، سوائے سیکورٹی کے دوسرے شعبوں میں مناسب تعداد میں مقامی لوگوں کو روزگار بہم پہنچانے میں ناکامی پر افسوس کا اظہارکیا اور اسپیشل اکنامک زون میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کوئی ٹیکس نہ لینے پر شکایات کا ذکر کیا۔انہوں نے مقامی اشیاءکی ،جن کی جگہ چینی مصنوعات نے لے لی، گرانی اورمنافع میں مقامی لوگوں کے مناسب حصہ میں کمی پر تشویش کا اظہارکیا۔انہوں نے کم تکنیکی زرعی سیکٹر میں چین کے داخلے پر بھی سوال اٹھایا اور چین کے ذریعہ زمینیں خریدنے سے پیش آنے والے خطرات سے بھی متنبہ کیا۔ انہوں نے اس پر بھی سوال اٹھایا کہ اسٹیل جیسی کچھ صنعتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس میں مقامی پیداوار میں اضافہ کے بجائے گراوٹ آرہی ہے۔پائیدار ترقی کے حوالے سے ہود بھائی نے چین کے بڑے پیمانے پر کوئلہ کان پراجکٹوں پر، جن کے آبی دستیابی پر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور فضائی آلودگی پھیل رہی ہے جس سے مقامی ماحولیات متاثر ہورہی ہے ،اور کراچی میں حال ہی میں تنصیب کیے جانے والے دو جوہری پلانٹوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل پر تشویش ظاہر کی۔ڈاکٹر ہود بھائی نے یہ کہتے ہوئے کہ بی آر آئی کسی اور جگہ خالصتاً کمرشیل پراجکٹ ہو سکتا ہے اس پر شک و شبہ ظاہر کیا کہ یہ پاکستان کے حق میں مفید ہے کیونکہ گوادار اور بلوچستان کے ارد گرد جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے زیادہ اسٹریٹجک ہے۔ انہوں نے اخیر میں یہ کہا کہ سی پیک سے پاکستان کو حقیقی مواقع مل سکتے ہیں۔لیکن فی الحال اسے عمدگی سے نہیں چلایا جا رہا۔اور اس میں نہایت درجہ رازداری برتی جارہی ہے اور حکومت چین کے ساتھ اتحاد پر زور دے رہی ہے ۔مجموعی طور پر بی آر آئی خطہ میں زبردست خوشحالی بھی لا سکتا ہے بشرطیکہ اسے بہتر انضباطی دائرہ کار میں رکھا جائے۔

جرمن مارشل فنڈ کے ایشیا پروگرام میں سینیئر ٹرانس اٹلانٹک فیلو اینڈریو اسمال نے شدید ردعمل کو صرف نظر کرتے ہوئے معلوم کیا کہ کیا چین بی آر آئی کو دوبارہ متوازن کر سکتا ہے ۔تاہم انہوں نے دیگر بڑی طاقتوں اور کلیدی بی آر آئی ممالک کی جانب سے ردعمل کاذکر کرتے ہوئے اس پر بڑی گہرائی و گیرائی سے توجہ دی کہ کیا چین خود کو حالات کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔یہ تبدیلیاں کس شکل میں رونما ہو سکتی ہیں ۔اور ہم کیسا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔انہوں نے اس پر بھی اظہار خیال کیا کہ جو کام چین طویل عرصہ سے خود اندرون ملک کر رہا ہے انہیں بی آر آئی کن طریقوں سے باہر نکالے گا۔انہوں نے مشکوک واپسی ، پیچیدہ قرض سطح،بدعنوانیوں اور ماحولیاتی امور کے ساتھ نہایت مہنگے بنیادی ڈھانچوں کے پراجکٹوں کے لیے چین کو ایک پوسٹر چائلڈ قرار دیا۔

انہوں نے اس قرض جال پر بھی اظہار خیال کیا جو شراکت دار ممالک پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور کس طرح چین کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک سے اس کی مذمت اور ملامت کے علاوہ اورکئی دیگر ملکوں میں اس پر نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔مثال کے طور پر بی آر آئی سے متعلق حلیف ملک پاکستان کی جانب سے عدم شفافیت پر تنقید کی جارہی ہے۔ اور خود چین کے اندر کثیر اخراجات کی نوعیت کے پراجکٹ پر نکتہ چینی کی جارہی ہے۔لیکن بی آر آئی کو گری ہوئی تنقیدوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

TDF seminar:Moving forward, pushing back


انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی پالیسی اینڈ ریسرچ منیجر ڈاکٹر سارا اشرف نے مقامی حکمرانی ، شفافیت اور جوابدہی اور سماجی و اقتصادی یک قطبیت کے لیے سی پیک کی پیچیدگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے استحکام اور سلامتی کے زاویوں سے بی آر آئی میں علاقائی شراکت داروں کی اسٹریٹجک ضروریات کا جائزہ لیا۔بی آر آئی کو واضح طور پر بیان کردہ اصول و ضوابط کا ادارہ کم اور اسٹریٹجک نوعیت سے زیادہ اہم بتاتے ہوئے ڈاکٹر اشرف نے عالمی نظم میں تبدیلیوں، قرض کی پریشانیوں کے دو رس اثرات پر اظہار خیال کیا۔اور دلیل دی کہ یکساں حالات میں اپنی مصنوعات سے مقابلہ،چین سے تجارتی عدم توازن سے بچنے اور یورپ میں روزگار پیدا کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے جیسے معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یورپی یونین کو برابری کی سطح پر اپنے چینی ہم منصبوں سے ملنا چاہئے۔

سابق وزیر خارجہ برائے اموربین الاقوامی تجارت بیری گارڈنر نے سمینار کی کارروائی کا خلاصہ کرتے ہوئے بی آر آئی پر واپس آنے والے ٹریفک کے حوالے سے چین کے لیے غیر مستحکم امکانات کا ذکر کیا اور پائیدار ترقی کے معنی پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت بتائی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بین الاقوامی تنازعات کے فیصلہ کرنے کے راستے میں کیسے دشوار گذار موڑ پر ہیں۔ یورپ اگر بی آر آئی جیسے جوش اور تصورات کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت کا جواب دیناچاہتا ہے تو اسے میدان عمل میں آنا چاہئے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Tdf seminarmoving forward pushing back in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment