افغان سیاستدانوں کے ساتھ ماسکو مذاکرات نہایت کامیاب رہے: طالبان

ماسکو: حقوق نسواں اور جنگ زدہ افغانستان میں اسلامی آئین کے مطالبہ پر عدم اتفاق کے باوجود طالبان نے افغان سیاستدانوںکے ساتھ غیر معمولی مذاکرات کو سراہا۔

ماسکو میں دو روزہ کانفرنس میں طالبان لیڈروں کو سابق افغان صدر حامد کرزئی کے شانہ بشانہ کھڑا دیکھا گیا۔ گول میز کانفرنس میں ،جس میں جلیل القدر افغان سیاستداں اور طالبان کے کٹر دشمنوں کو انتہاپسندوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور رات کا کھاناکھاتے دیکھا گیا،کسی سرکاری اہلکار کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

یہ دوسرا موقع تھا جب صدر اشرف غنی حالیہ ایام میں ہونے والے ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل جب امریکہ نے قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کیے تو اس وقت بھی اشرف غنی کو مذاکرت میں شامل نہیں کیا گیا۔

طالبان وفد کے قائد شیر محمد عباس استانک زئی کرزئی کے ساتھ بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پیش ہوئے۔ 2001میں امریکی قیات والی اتحادی فوجوں کے ذریعہ اقتدار سے طالبان کی بے دخلی کے بعد ملک کے صدر مقرر کیے جانے والے حامد کرزئی کے ہمراہ سیاہ پگڑی باندھے طالبان رہنما نے میڈیا کے نمائدنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات نہایت کامیاب رہی۔

فریقین میں کئی امور پر اتفاق رائے ہوا اور مجھے امید ہے کہ مستقل میں ہم مزید کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور بالآخر کوئی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ہم افغانستان میں مکمل امن قائم کر سکتے ہیں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Taliban say moscow talks with afghan politicians very successful in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
What do you think? Write Your Comment