سعودی حکومت کی میزبانی میں ہونے والی افغان کانفرنس میں پاکستانی مذہبی لیڈران شرکت نہیں کریں گے

کابل: حکومت سعودی عرب کے زیر اہتمام علمائے دین و عمائدین ملت کی جو کانفرنس ہو رہی ہے اس میں پاکستان کے کچھ معروف علماءاور مذہبی اسکالرز جن میں طاہر اشرفی اور جمیعت علمائے اسلا م کے لیڈربھی شامل ہیں،شرکت نہیں کر رہے۔

موصول رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے کچھ علماءنے سخت بیانات، جو مذہبی علماءکے نام ارسال کردہ مکتوب میں بھی تحریر ہیںکے باعث کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس نے پاکستان و افغانستان کے علماءکو بھیجے گئے اس دعوت نامے کو دیکھا ہے جس میں افغانستان کے تمام مسلح گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

ذریعہ نے مزید بتایا کہ اس مکتوب پر تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کے کے سکریٹری جنرل اور ایک سابق کابینہ وزیر یوسف العثیمین کے دستخط ہیں۔اس میں تحریر ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ہم تمام مسلح گروپوں سے کہتے ہیں کہ دہشت گردی ترک کر دیں ،حکومت افغانستان کو تلیم کریں ، مذاکرا تکی میز پر جمع ہوں اور سیاسی عمل میں حصہ لیں۔

اس میںیہ بھی تحریر ہے کہ غیر قانونی مسلح گروپوں اور جرائم پیشہ عناصر ،انتہا پسنداور تشدد پسند عناصر کی دہشت پسندانہ سرگرمیوں سے افغانستان کی ترقی و خوشحالی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Title: some prominent pak religious scholars not attending saudi conference on afghan war in Urdu | In Category: دنیا  ( world ) Urdu News

Leave a Reply