تیونس خونریزی میں سیاحوں کوبچانے کی کوشش نہ کرنے پر 6 سیکورٹی گارڈوں کے خلاف فرد جرم عائد

تیونس: ایک برطانوی جج نے تیونس میں 2015 میں ساحل سمندر کے قریب ایک سیاحتی مقام پر ہوئے خونریز دہشت گردانہ حملے کے دوران سیاحوں کی مدد نہ کرنے کے الزام میں چھ سیکورٹی گارڈوں پر الزامات طے کر دیے۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 38 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دہشت گردانہ حملے کا پتہ لگانے والی برطانیہ کی ٹیم نے بتایا کہ 2015 میں ساحل سمندر کے قریب تفریحی مقام پر ہوئے حملے کے دوران ان تیونیشیائی سیکورٹی گارڈوں نے سیاحوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے تقریب کے دوران لاپرواہی برت کر ، جان بوجھ کر اور نامناسب طریقے سے کام کیا۔ اس حملے میں برطانیہ کے 30 شہری اور آٹھ دوسرے ممالک کے شہری مارے گئے تھے۔
حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) نے لی تھی۔ تیونس کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت کے ترجمان سفیان سلیطی نے رائٹر کو بتایا کہ امپیریل ہوٹل کے چھ سیکورٹی گارڈوں پر خطرے کے وقت لوگوں کی مدد نہ کرنے کی فرد جرم عائد کی گئیہ ے۔ فی الحال ان چھ ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے تک حراست میں نہیں لیا جائے گا اور اس سلسلے میں دیگر 14 افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 12 افراد کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے۔ برطانیہ کے جج نکولس لورین اسمتھ نے تیونس کے سیکورٹی گارڈوں کی تنقید کرتے ہوئے دہشت گردانہ حملے کے دوران ان کی غفلت اور لاپروائی کو بزدلانہ فعل قرار دیا ۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Six hotel guards charged with failure to help tourists during tunisia massacre in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply