حوثی ملیشیا کے دوسرے سب سے بڑے لیڈر صالح الصمد سعودی اتحاد کے حملے میں ہلاک

جدہ: یمن میں لڑائی لڑ رہی ایران کی حلیف ملیشیا نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گذشتہ ہفتہ سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملہ میں حوثی ملیشیا کے دوسری بڑی شخصیت صالح الصمد مارے گئے۔حوثی کی خبر رساں ایجنسی سبا نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ الصمد ،جو کہ حوثیوں کی نام نہاد سپریم پولٹیکل کونسل کے سربراہ تھے،جمعرات کو مشرقی حدیدہ صوبہ میں ہوئے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔وہ عرب اتحاد کی نہایت مطلوب لوگوں کی فہرست میں حوثی رہنما اعبدالمالک الحوثی کے بعد دوسرے نمبر پرتھے۔ ان کے سر پر 20ملین ڈالر انعام تھا۔انکی ہلاکت سے 2015سے اتحاد حمایت یافتہ حکومت حامی فوجوں کے خلاف جنگ کر رہی شیعہ ملیشیا پر کاری ضرب لگے گی۔اپریل شروع ہوتے ہی الصمد نے سرحد پار سے ان کی ملیشیا کے ذریعہ میزائل داغے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے 2018کو بالسٹک میزائل کا سال قرار دیا تھا ۔نومبر سے حوثیوں نے سعودی عرب پر کئی بالسٹک میزائل داغے تھے لیکن انہیں میزائل شکن نظام نے راستے میں ہی ناکارہ کر دیا۔

Title: saudi led coalition airstrike kills yemens houthi no 2 saleh al sammad | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply