ایران خطہ میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی پالیسی ترک کرے اور یمن سے نکل جائے: سعودی عرب

واشنگٹن: سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
واشنگٹن میں واقع سعودی سفارت خانہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے قطر کا ذکر خیر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ قطری حکمراں ہوش کے ناخن لیں اور اپنی غلطیوں کو سدھاریں اور ان کا ازالہ کریں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جون بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیے جانے کے حوالے سے استفسار کیے جانے پر الجبیر نے کہا کہ بولٹن ایک جرات مند شخص ہیں اور ایران کے حوالے سے ان کا موقف معقول ہے۔الجبیر نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات ہمیشہ عجیب وغریب ہوتے ہیں۔
ایران خطے میں دہشت گردی کے فروغ کی پالیسی کو خیر باد کہے۔ایران نے یمن میں حوثی ملیشیا کو منظم اور سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ یمن سے نکل جائے اور عالمی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ الجبیر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران خطہ میں اپنا رول چاہتا ہے تو اسے اپنے ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں ۔
ایک سوال کے جواب میں الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ سعودی وزیر خارجہ نے منگل کے روز امریکی صدر سے وائٹ ہاو¿س میں ملاقات کی تھی اور ا مریکہ و سعودی تعاون کو فروغ دینے کے پیش نظر ربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

Title: saudi crown princes discussions with us administration include combating terrorism | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply