فرانس اور سعودی عرب ایران کی علاقائی توسیع پسندی کچلنے کی ضرورت پر متفق

پیرس: یہاں ایلیسی پیلیس میں ایک مشترکہ کانفرنس میں سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور صدر فرانس ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے ، شام اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کے حوالے سے فرانس اور سعودی عرب باہم ایک رائے او رہم خیال ہیں۔
میکرون نے کہا کہ دونوں ممالک میں ایران کے جوہری معاہدے کے تئیں اپنے اپنے نظریہ کے مطابق اختلافات ہیں۔لیکن دونوں اس پر متفق ہیں کہ ایران کی علاقائی توسیع پسندی کے رجحان کو کچلنے کی ضرورت ہے۔نیز فرانس نے سعودی عرب پر اس کے بیلسٹک میزائل حملوں کو درست قرار دینے سے انکار کر دیا۔
میکرون نے کہا کہ دونوں ممالک کا اسٹریٹجک نظریہ سیاسی اسلام کی توسیع کے ان اقدامات کو کم کرنا ہے جن سے دہشت گردی کی دوسری قسم کو تقویت پہنچتی ہے اور خطہ میں عدم استحکام پید اہوتا ہے۔
یمن کے حوالے سے انہوں نے سعودی قیادت والے اتحاد کو فرانسیسی اسلحہ کی فروخت کا دفاع کیا لیکن کہا کہ وہ وہاں کے عوام کے حالات سےکافی متفکر ہیں اور اس معاملہ پر پیر میں کانفرنس کریں گے۔
شہزادہ بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب شام میں اپنے حلیفوںکے ساتھ مل کر فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے قطعاً نہیں ہچکچائے گا۔تین روزہ دورے کے دوران جہاں کئی امور پر اتفاق رائے ہوا وہیں دونوں ملکوں کی کمپنیوں نے18بلین ڈالر کے معاہدے بھی کیے۔

Title: saudi crown prince visit ends with 18bn deals political alignment with france | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply