قتل کے جرم میں ایک سعودی شہزادہ کو سزائے موت دی گئی

دوبئی:قتل کے جرم میں سعودی عرب میں غیر معمولی طور پرکل شاہی خاندان کے ایک رکن موت کی سزا دیدی گئی. یہ اپنے طور پر ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس میں شاہی خاندان کے کسی رکن کو سزائے موت دی گئی۔
سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے کہا گیا کہ شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر کو سعودی شہری عادل المحمید کو جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے جرم میں سعودی راجدھانی ریاض میں سزائے موت دی گئی۔ سر قلم کئے جانے کے اس واقع کے ساتھ رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس بے نام شہزادے کو نومبر 2014 میں اپنے دوست کو قتل کرنے پر بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مسلح ڈکیتی، ریپ اور اسلامی تعلیمات کے تحت قائم اصولوں سے انکار پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ اب تک جن افراد کو سزائے موت دی گئی، ان میں زیادہ تر کے سر تلوار سے کاٹے گئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قبل ازیں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں گزشتہ سال 158 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو ایران اور پاکستان کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اسی سال جنوری میں سعودی عرب میں ’دہشت گردی‘ کے جرم میں ایک ہی روز 47 افراد کے سر کاٹ ڈالے گئے تھے۔
ان میں مشہور عالم شیخ نمر النمر بھی شامل تھے۔ گردن زدنی کے اس واقعے پر سعودی ایران تلخی اتنی بڑھی کہ نوبت تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کرنے کی کوشش اور دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات کے خاتمے تک پہنچ گئی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Saudi arabia executes a prince convicted in a fatal shooting in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply