روس نے 755امریکی سفارتی عملہ کو روس سے نکل جانے کا حکم دیا

ماسکو: جہاں ایک جانب روس نے امریکی صدر کے الیکشن میں ڈونالڈ ٹرمپ کو کامیاب بنانے میں مدد کی وہیں جس قسم کے حالات کروٹ لے رہے ہیں اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں جو تلخی ہے وہ نہ تو مٹھاس میںتبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی دونوں ایک دوسرے کے ہم مشرب و ہم پیالہ بن سکتے ہیں۔ اس امکان کو اس بات سے اور تقویت پہنچتی ہے کہ روسی صدر ولادمیر نے روس کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے جواب میں روس میں واقع امریکی مشنز میں کام کر رہے 755سفارتی عملہ کو روس چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل روس نے امریکہ کو انتباہ دیا تھا کہ چونکہ روس میں امریکی سفارت کاروں کی تعداد بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ لہذا امریکی حکومت اپنے سفارتی عملے کی تعداد کو کم کرے۔
امریکی حکومت کی جانب سے جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں روسی حکومت نے یک طرفہ اقدام کرتے ہوئے 755 امریکی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔امریکہ کی جانب سے کچھ دن پہلے روس، ایران اور شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، اس کا جواز یہ بنایا گیا تھا کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی ہے جبکہ روسی حکومت اس الزام کو متعدد بار انکار کر چکی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدام ایک رد عمل ہے۔
روسی حکومت نے امریکی سفارتی عملے کے 755 افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم ستمبر تک ملک سے چلے جائیں، اتنی بڑی تعداد میں عملے کے افراد چلے جانے کے باوجود 455 افراد باقی ہیں جو امریکی سفارت میں کام کرتے رہیں گے۔ دوسری جانب امریکہ میں تعینات روسی عملے کے اراکین کی تعداد بھی چار سو پچپن افراد پر مشتمل ہے۔اگرچہ عملہ کو ملک چھوڑ کر چلے جانے کا حکم جمعہ کو جاری کیا گیا تھا لیکن اب مسٹر پوتن یہ کہہ کر اس کی اور تصدیق کر دی کہ امریکہ یکم ستمبر تک روس میں تعینات اپنے سفارتی عملہ کی تعداد میں تخفیف کر دے۔واضح رہے کہ جدید دور میں کسی ملک سے اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک کے سفارتی عملہ کو نکالنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

Title: russias putin orders 755 us diplomatic staff to be cut | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply