اردن۔ شام سرحد پر واقع مہاجرین کے عارضی کیمپ پر روسی بمباری،12ہلاک

عمان: شامی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شام سے متصل اردنی سرحد پر واقع پناہ گزین کیمپ پر حملہ، کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، جس میں روسی جیٹ طیاروں نے کیا ہے۔ان کا اصرارہے کہ سرحد پر شام کے علاقہ میں قائم کیے گئےعارضی کیمپ پر، جس میں چند سو افراد عورتوں اور بچوں کے ساتھ قیام پذیر ہیں، ، حملہ آور جیٹ طیارے بہت بلندی پر پرواز کررہے تھے۔
تاہم روسی وزارت دفاع نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ مغرب نواز فری سیرین آرمی سے تعلق رکھنے والی ایک بریگیڈ کے باغی ترجمان سعید سیف قلامونی نے کہا کہ علاقہ میں واقع دو بڑے کیمپوں میں سے ایک ہدالت پناہ گریں کیمپ کے قریب حملہ ہوا تھا۔ ایک مغربی سفارتکار نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ روسی جیٹ طیاروں نے ہی یہ حملہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ روس باغیوں کے خلاف شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں ستمبر سے فضائی بمباری کررہا ہے۔
امریکہ کے کٹر اتحادی اردن نے ماسکو حکومت کے ساتھ تال میل بڑھادیا ہے تاکہ وہ جنوبی شام میں اعتدال پسند باغی گروپوں کو حملوں کا نشانہ بنائے گئے اتحاد جنوبی محاذ سے وابستہ ہیں۔ ان کی حمایت اس حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے تاکہ اپوزیشن کے قبضہ والا جنوبی شام انقلابی جہادی تنظیموں جیسے القاعدہ کے النصرہ فرنٹ یا داعش کے ہاتھوں میں نہ پڑجائے۔ ایک اردنی ذریعہ نے بتایا ہے کہ کم از کم 40 افراد اس حملہ میں زخمی ہوئے ہیں جن میں بیشتر عورتیں اور بچے ہیں۔ اردنی فوجیوں نے انہیں ملک کے اندر اسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔
12ہلاک شدگان میں اسود الشرفیہ کے جنگجو بھی شامل ہیں جو داعش سے لڑرہے ہیں اور اس اعتدال پسند باغیوں کے گروپ کا حصہ ہیں جن کی اعانت مغربی ممالک کررہے ہیں اور انہوں نے عمان میں ان کے لئے فوجی کارروائی مرکز بھی بنارکھا ہے۔ اس کیمپ میں بیشتر ان لڑاکو کے کنبے مقیم ہیں۔ یہ غیر آباد پٹی اس مقام کے قریب ہے جہاں عراق شام اور اردن کی سرحد یں ملتی ہیں۔ یہاں دو بڑے کیمپ ہیں جن میں 60 ہزار نفوس آباد ہیں۔
وہ وسطی اور مشرقی شام سے جان بچاکر بھاگے تھے مگر یہاں پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ اردن کے حکام نے انہیں اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیااردن نے اپنے سرحدی علاقے کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے رکھا ہے کیونکہ پچھلے ماہ ایک خودکش بمبار نے شام کی طرف سے آکر اپنی گاڑی اردنی فوجی ٹھکانے میں لاکر ٹکرادی تھی جس میں سات سرحدی محافظ مارے گئے تھے۔
جب سے اردنی فوج نے علاقہ سیل کیا ہے پناہ گزینوں کو کھانا پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی امدادی کارکنوں نے بتائی ہے۔ شام کے سرحدی قصبہ التفیف میں امریکہ نواز باغیوں کی وقتاً فوقتاً دولت اسلامیہ فی العراق و الشام( داعش) کے جنگجوؤں سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جو بہت کم آبادی والے مشرقی شامی ریگستان میں موجود ہیں۔
التفیف میں باغیوں کے ٹھکانوں کو پچھلے ماہ دو بار روسی جنگی طیاروںنے نشانہ بنایا تھا۔ حالانکہ امریکی فوج نے پہلے حملے کے بعد انہیں باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Russian jets blast refugee camp on jordan syria border killing 12 in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply