بشار الاسدروس،اسرائیل ،ایران اور حزب اللہ کی ضرورت کیوں؟

سمیع اللہ ملک، لندن
پاکستانی فوج نے15جون2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا۔اس آپریشن کے پہلے ایک سال کی مختلف کارروائیوں کے دوران2763 دہشت گرد جہنم رسید اور ہماری بہادرسپاہ کے347افسران نے جام شہادت نوش کیا۔آپریشن اب بھی جاری وساری ہے اوراس کے واضح اثرات کونہ صرف وطن عزیزبلکہ ساری دنیامیں اس کوخراجِ تحسین پیش کیاجارہاہے کیونکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اس سے پہلے برطانیہ اورامریکابھی اپنے پوری جنگی وسائل کے باوجود کھڑے نہ ہو سکے اوربالآخران کے ظالم حملہ آور فوجیوں سے بھرے ہوئے وہی دیوہیکل سی ون تھرٹی طیارے رات کے اندھیرے میںآج ان کے تابوت لیکرواپس جارہے ہیں اورسینکڑوں انہی پہاڑوں میں اس طرح غرق ہوگئے ہیں کہ اب ان کے نام کی صرف تختیاں کیپٹل ہل کی یادگارمیںنامعلوم سپاہیوں کی قطاروں میں ایستادہ قصرسفیدکے فراعین کی سفاکی کی یاد دلاتی رہیں گی۔
جنرل راحیل شریف نے اس دشوار گزار گھاٹیوں پر مشتمل وادی شوال سے دہشت گردوں کی باقیات کو صاف کرنے، بلاامتیاز ان کو تنہا کرنے اور ان کے ملک بھر میں معاونین اور سہولت کاروں سے رابطے توڑنے کے لیے آپریشن کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔اب وادیِ شوال اور دتہ خیل سے آگے گھنے جنگلات اور گھاٹیوں پر مشتمل علاقہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا آخری ٹھکانہ رہ گیا ہے اور جس کو دہشت گرد پاکستان اور افغانستان میں آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔جنرل راحیل شریف نے فوجی جوانوں کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے قوم کوبھی یہ پیغام دیاکہ دہشت گردی کے انسداد کی جدوجہدمیں یقیناکافی پیچیدگیاں ہیں لیکن کامیابی کیلئے یک جان ہونابہت ضروری ہے۔
دہشت گری کے ارتقا کی کہانی دلچسپ مگر زیادہ اذیت ناک مغرب کاروّیہ ہے۔چندہفتے قبل لندن کے اخبارات،ٹی وی چینلز اورسوشل میڈیاپریہ خبربڑی حیرت سے دیکھی اورسنی گئی کہ دس سال کی عمرکے ایک بچے کوپولیس نے اپنی تحویل میں لے لیاجس کی کاپی پرتحریرتھاکہ وہ ”ٹیررسٹ ہاو¿س“(Terrorist House)میں رہتا ہے۔ بچے سے پوچھ گچھ کے دوران پتہ چلاکہ وہ املاکی غلطی کی وجہ سے Terraced کی بجائےTerroristلکھ گیا۔ پولیس اس بچے کے گھراور اس کے خاندان کے بارے میں مکمل تفصیلات جمع کرنے کے بعدکچھ حاصل نہ کرسکی لیکن میڈیانے اصل حقائق سے کسی کوآگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
دس سالہ مسلمان بچے کی انتہائی معمولی غلطی پراس قدرتجسس اورتشویش مگردوسری جانب امریکاکی جارج یونیورسٹی واشنگٹن کی اسسٹنٹ پروفیسرمسزکرسٹائن فیئرکے پاکستان دشمنی پر لیکچرزاورخیالات سے دنیاآگاہ ہے ۔وہ بلوچستان اورکراچی میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ان بلوچ لیڈروں کے ساتھ عرصہ ¿درازسے رابطے میں ہیں جوامریکا،برطانیہ اورسوئٹزرلینڈمیں مقیم ہیں۔مسزفیئرکے سوشل میڈیاکے اکاو¿نٹس دیکھیں تووہ بلوچستان کی علیحدگی کیلئے ہندوستانی مددکی درخواستوں سے اٹے ہوئے نظرآئیں گے۔ٹوئٹرنے چند روز پیشتردہشت گردی کے ڈیڑھ لاکھ سے زائداکاو¿نٹس توبندکردیئے ہیںلیکن پاکستان میں دہشت گردوں کی اعانت کرنے والی اس امریکی پروفیسرپرکسی کی نظرکیوں نہیں گئی؟
امریکی اورایرانی وزارتِ خارجہ اس حقیقت سے کس طرح انکارکرسکتی ہے کہ مسزکرسٹائن فیئراپنے دورہ¿ ایران کے دوران زاہدان میں بھارتی قونصل خانہ میں بیٹھ کربلوچستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کیلئے دہشت گردوں کی بھرپورمددکرتی رہیں۔اسی دوران بلوچ دہشت گردبھی اس کے ساتھ ہندوستانی قونصل خانے میں موجودرہے لیکن افسوس اس اسسٹنٹ پروفیسر کی دہشت گردوں سے ہمدردیاں اورمعاونت اقوام متحدہ،امریکااوربرطانیہ میں کسی کونظرنہیں آئیں،اس کے برعکس اٹلانٹا(امریکا)میں واقع شیلوہ اسکول میں تیرہ سالہ مسلمان بچی کی استاداسکارف کی جانب اشارہ کرکے پوچھتی ہے کہ کیاتم نے اس کے نیچے بم رکھاہواہے؟یہ انسانی حقوق اورامریکی آئین کی کیسی پاسداری ہے کہ اب تک سینکڑوں شہریوں اورسیکورٹی فورسزکوقتل کرنے والے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی امریکی پروفیسراوراستادکسی کونظرنہیں آئی؟
ایک دس سالہ بچہ توایک لفظ کی غلطی سے مشکوک دہشت گردہوگیالیکن وہ شخص جوگزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف بلوچستان میں51 انسانی جانیں نگل چکاہے ،وہ کسی کونظرنہیں آتا؟ کیااقوام متحدہ کونظرنہیں آرہاکہ بلوچستان سمیت پاکستان بھرمیں دہشت گردی کاطوفان اٹھانے والے لوگ افغانستان ،بھارت،برطانیہ اورسوئٹزرلینڈمیں بیٹھ کراپنی اپنی تنظیموں کے ذریعے دہشت گردی کی ہدایات دے رہے ہیں؟
زیادہ توجہ طلب پیچیدگی یہ ہے کہ ایشوکونان ایشوبناکرمسئلے کی سنگینی میں اضافہ کیاجارہاہے اوربات اہل مغرب کی دانستہ نابینائی سے آگے بڑھ کرہم سب کی جاہلانہ حرکات تک پہنچ جاتی ہے۔مثلاًداعش ہے یانہیں ہے،ہی کی بحث کولے لیجئے،اس بحث میں جس طرح ہرکوئی اپنی توانائی صرف کرنے میں لگاہواہے، اس کی کیاضرورت ہے؟داعش کی جانکاری کے حوالے سے ایک سال قبل لبنانی ٹی وی پردکھایاگیاوہ منظرآنکھوں میں تازہ کرناضروری ہے جب کلمہ طیبہ والے سیاہ پرچم لہراتے ہوئے القاعدہ کے جنگجوگاڑیوں میں سوارلبنان کے علاقے بکہ وادی میں داخل ہوئے جن کااستقبال لبنانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے کیا۔لبنانی حکومت اس وقت حزب اللہ اور القاعدہ کے درمیان طے پانے والے نئے اتحادسے وجودمیں آئی ہے۔القاعدہ کایہ گروہ شام میں جبتہ النصرہ کہلاتاہے۔یہ گروہ23جنوری2012 کوشام میں قائم ہوااورنومبرمیں اس پرامریکانے دہشت گردگروہ کاالزام لگاکرپابندی لگادی۔اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ،فرانس،کینیڈا،آسٹریلیا،برطانیہ،سعودی عرب،متحدہ امارات، ترکی اورایران نے بھی دہشت گردگروہ قراردے رکھاہے۔
یہ وہی القاعدہ ہے جس کے خلاف جنگ کااعلان پوری دنیانے کینیامیں امریکی سفارت خانوں پرحملے کے بعدشروع کیاتھا۔اسامہ بن لادن اورالقاعدہ کانام خوف ودہشت کی علامت بناکرپیش کیاگیا ۔اسامہ سوڈان گیاتواس کاوہاں تعاقب کرکے حملے کئے گئے۔سب سے بڑی ادویہ سازفیکٹری اس بات پرتباہ کردی گئی کہ اسے القاعدہ نے قائم کیاتھا جس کے نتیجے میں عوام بنیادی ادویات سے بھی محروم ہوگئے۔اسامہ افغانستان آیاتواس کے پیچھے ۱۱ستمبرسے پہلے ہی حملے شروع کردیئے گئے۔سابق امریکی صدربل کلنٹن کے زمانے کاوہ ناکام حملہ کس کویادنہیںجس میں میزائل پاکستان کے علاقے خاران میں آکرگرے۔عالمی سطح کے نامورتجزیہ نگاروں سے القاعدہ کے خطرے پرکتابیں لکھوائیں گئیں ، روزانہ کی بنیادپراخبارات کے صفحات کامنہ کالاکیاگیا،اس کے بعدنائن الیون ہوگیا۔
اسی اسامہ اورالقاعدہ کوکیفرکردارتک پہنچانے کیلئے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی،افغانستان کاامن غارت کردیاگیا۔لاکھوں انسان لقمہ¿ اجل بناڈالے گئے،القاعدہ کے تعاقب میں پاکستان پرڈرون حملوں کی بارش شروع کردی گئی جس میں پہلے حملے میں ڈومہ ڈولہ مدرسے کے90سے زائدیتیم ومعصوم بچوں کے پرخچے اڑادیئے گئے اورہماری بھی بدنصیبی کاکیازمانہ تھاکہ قصرسفیدکے فرعون کے انتہائی وفادارفاسق کمانڈونے اس حملے کی ذمہ داری خودقبول کرلی اورامریکی دباو¿پرقبائلی علاقوں میں کاروائیاں بھی چلتی رہیں۔ عراق پربھی ایک بے بنیادالزام لگاکرحملہ کردیاگیاجس کے نتیجے میں نہ صرف عرب ممالک میں سب سے زیادہ عسکری وحربی قوت اوربہترین تاریخی ورثے کے مالک عراق کے لاکھوں افرادکونامعلوم گناہ کی پاداش میں صفحہ¿ ہستی سے مٹاکر کھنڈرات میں تبدیل کردیاجواب امن سے کوسوں دورہے۔اب بھی کسی کو مارنے کیلئے اس پرالقاعدہ کارکن،سہولت کار یا امن دشمن کالیبل لگادیناکافی ہے۔فلوجہ اورابوغریب اس کی بدترین مثالیں ہیں۔گوانتاناموبے کاشکم بھرنے کیلئے انتہائی بے حیائی سے القاعدہ کے ارکان کونارنجی کپڑوں میںآہنی زنجیروں سے سجادیاگیاحتیٰ کہ معمولی پان دھان کی انتہائی تعلیم یافتہ پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی آج بھی امریکی جیل میں86سال کی سزابھگت رہی ہے۔
القاعدہ کی سب سے فعال اورمضبوط تنظیم جبتہ النصرہ ہے جو شام میں بشارالاسدکی حکومت کے خلاف لڑرہی ہے۔اس گروہ کوسب سے پہلے30جنوری 2012 کوایران نے دہشت گردگروہ قراردیاجبکہ اس کے قیام کوابھی صرف سات دن ہی ہوئے تھے،حزب اللہ کے ساتھ لبان کی بکہ وادی اورشام میں مقابلے کاآغازہوگیا۔یہ آج سے چارسال قبل کی بات ہے جب شام میں عرب بہارکے اثرات کاآغازہواتھا اورایران کے بشارالاسدکوبچانے کیلئے پاسداران روانہ کیے تھے اورحزب اللہ نے اپنے دستے بشارالاسدمخالف لوگوں سے لڑنے کیلئے شام میں اتارے۔ٹھیک چارسال بعدلبنان کی بکہ وادی کایہ منظرسب کیلئے حیران کن تھا۔القاعدہ کے پرچم گاڑیوں پرلہرارہے تھے اورنعروں کی گونج میں لبنان کی فوج نے اپنے16فوجیوں اورایک پولیس والے کے تبادلے میںالقاعدہ کے29ساتھیوں ،جن میں داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کی بیٹی ورسابقہ بیوی سمیت عورتیں اوربچے تھے ،ان کے حوالے کیا۔ابوبکرالبغدادی کی سابقہ بیوی جوسرمئی رنگ کاحجاب پہن کرایک گاڑی میں لائی گئیں اورلبنانی ٹی وی ان سے گفتگوبراہِ راست نشرکرتارہا۔ یہ وادی حمائدکاارسل شہرتھا،ان فوجیوں کولینے کیلئے حکومت میں حزب اللہ کا اہم نمائندہ سیکورٹی ہیڈجنرل عباس ابراہیم خودآیاتھا۔اس کایہاں آناوزیراعظم”تمام سلام“ نے اپنے ساتھ اس لیے لازم قراردیاکہ کل اس کی رہائی کاالزام حزب اللہ دوسرے گروپوں پرنہ لگادے جب یہ قافلہ النبوہ شہرپہنچاتوآزاد ہونے والے فوجیوں کے اعزازمیںاستقبالیہ دیاگیاجہاں عباس ابراہیم نے اسے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی فتح قراردیا،اس لیے کہ حسن نصراللہ نے قیدیوں کے تبادلے کیلئے بشارالاسدکومجبورکیاتھا کہ وہ القاعدہ کی قیدمیں تین خواتین اورنوبچوں کورہاکردے تاکہ لبنانی فوجیوں کوواپس لایاجاسکے۔قیدیوں کی یہ تبدیلی سولہ ماہ کے طویل مذاکرات کے بعدوقوع پذیرہوئے۔
کیاکوئی یہ یقین کرسکتاتھاکہ آج 25سال کی طویل جنگ اوردنیاکوتباہی کے دہانے پرپہنچانے،لاکھوں لوگوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کے بعدالقاعدہ کے خلاف مغربی طاقتوں کا روّیہ بھی نرم ہے اوروہ جومشرقِ وسطیٰ کوجنگ میں جھونک رہے ہیں،انہیں بھی القاعدہ نرم نظرآرہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں القاعدہ نرم مزاج بتائی جاتی ہے اورافغانستان میں طالبان کو امن کاضامن تصورکیاجارہاہے۔اس لئے اب دنیاکوڈرانے اورجنگ میں جھونکنے کیلئے داعش کاہواکھڑاکیاجارہاہے۔ہواکھڑاکرنے والااستعمارداعش کی تخلیق اورنشوونماکی اعلانیہ ذمہ داری قبول بھی کرچکاہے۔
ایک طرف تمام عرب ممالک کوداعش کے انتہاءپسندنظریات سے خوفزہ کرکے انہیں امریکی چھتری تلے ،دوسری جانب بشارالاسد کے خلاف جنگ کابہانہ بناکر ایران ، عراق اور شام کوروس کی چھتری کے نیچے کھڑاکردیاگیا۔انتہائی بددیانتی سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلکی جنگ کی بنیادرکھتے ہوئے دمشق میں تمام حملوں میں جبہ النصرہ کواستعمال کیا گیاجس کے جواب میں ایران کے لوگ،حزب اللہ،افغانستان سے اورپاکستان سے گروہ منظم کرکے بھیجے گئے۔ قبائلی علاقوں اورافغانستان میں موجودالقاعدہ کے ارکان میں سب نہیں تواکثرشام چلے گئے ہیں۔پچھلے چارسال سے کم ازکم پندرہ مختلف گروہوں کی شدیدلڑائی کے باوجودمطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعدبالآخر قریباًڈیڑھ برس قبل داعش کومیدان میں اتاردیاگیا جس نے ریاستی حدودکوتوڑکررکھ دیایاہرایک کے ساتھ لڑائی شروع کردی۔اس کے بعدمیڈیااورسوشل میڈیاپریلغارہے ، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ امریکانے بنائی،کسی نے کہاکہ ابوبکرالبغدادی اسرائیلی ہے،کسی نے اس کو شامی وعراقی حکومت سے انتقام کی سیڑھی قراردیا۔یورپ کے24ملکوں سے لوگ داعش کیلئے لڑنے جاتے رہے۔
سوشل میڈیاپرپران کے چہرے ،نام سب کچھ موجودہیں،وہ پاسپورٹ پرمہریں لگواکرائیرپورٹس سے رخصت ہوتے ہیں۔آج بھی یورپی ممالک کے انٹرنیٹ پر داعش کیلئے لڑنے کی اپیلیںجاری ہوتی ہیں اورلوگ وہاں جاتے ہیں لیکن وہاں حکمراں صرف والدین سے اپیلیں کرتے ہیںکہ اپنے بچوں کواس آگ سے کھیلنے سے روکیں۔پیرس حملے کے بعد ایک محدودکاروائی کی گئی اورمیڈیاکارخ اسلامی ممالک کی طرف موڑدیاگیا تاکہ جنگ کامیدان گرم کیاجائے۔گزشتہ چارسال کے سارے حملے ،ساری ہلاکتیں ،تمام داعش کے کھاتے میں ڈال کراسے ہوابنایاگیا۔
ادھربالادستی کی جنگ شروع ہوئی ۔ایران اورسعودی عرب میدان میں کودے توروس اپنی بالادستی کیلئے بشارالااسدکے ساتھ آکھڑاہوا۔سب سے اہم کرداراسرائیل کابنتا جارہا ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے روس کادورہ¿ کیااوراپنے گزشتہ مو¿قف کوتبدیل کرتے ہوئے کہاکہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کیلئے بشارالاسدکی حکومت قائم رہنی چاہئے۔اس موقع پرروس نے اسرائیل سے10آئی اے ای سرچراورتین ڈرون طیارے خریدنے کامعاہدہ بھی کیا۔
اسرائیلیوں کوگولان کی پہاڑیوں پرقبضہ برقراررکھناہے توبشارالاسدضروری،روس کوتیل کی ترسیل کیلئے بندرگاہ چاہئے توبشارالاسدضروری،اورایران عراق اورحزب اللہ کواپنی بالادستی کیلئے بشارالاسدکی ہی ضرورت کیوں ہے؟آئندہ مسلم ممالک کے مابین مسلکی جنگ میں شدت پیداکرنے اورمسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کیلئے استعمارپوری تند ہی سے لگاہواہے لیکن حیرت انگیزکردارہے ان دانشوروں کاجن کے سامنے25سال تک القاعدہ بدترین عفریت تھی اوراب صلح جواورنسبتاً اعتدال پسندسمجھی جارہی ہے اورداعش خطرناک اورخوفناک عفریت ہے۔داعش سے لڑنے کے بعد اگلاعفریت ،اگلی خوفناک ترتنظیم کون سی ہو گی اوروہ کس قدرخوفناک قرارپائے گی۔یہ خیال آتاہے تومسلم امہ کے ہرحکمران کی عقل پرماتم کرنے کوجی چاہتاہے!
رابطہ کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rusia israel and iran seem basharul asads bodyguards in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply