روس نے شام میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران اور ترکی کے اہم کردار کو اجاگر کیا

ماسکو: روسی صدر ولادمیر پوتین نے کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے ترکی،ایران ، حکومت شام، مسلح حزب اختلاف اور روس سبھی کا ایک اہم کردار ہے۔روسی آر ٹی خبر رسااں ایجنسی نے پوتین کے حوالے سے اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پوتین نے یہ معلوم کیے جانے پرکہ اس ضمن میں ان کا کیا خیال ہے کہ مغرب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ بشار الاسد کی شامی حکومت اپنے ہی عوام ے خلاف کیمیاوی حملے کر رہی ہے،کہا کہ وہ اپنے اس موقف کو پھر دوہرانا چاہیں گے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی عداوت کے ہیں۔ کیونکہ شامی حکومت 2013 میں ہی اپنے تمام کیمیاوی ہتھیار اقوام متحدہ کے حوالے کر چکی ہے۔اب روسی صدر نے بھی دوبارہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بشار حکومت پر کیمیائی حملے کا الزام سراسر غلط ہے جبکہ تحقیقات کے بعد اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
روسی صدر نے یہ بات ایسے وقت میں دہرائی ہے جبکہ وہ اس وقت فرانس کے سرکاری دورے پر ہیں، انہوں نے ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شامی صدر اور انکی فوجیوں کا اس حملے میں کوئی کردار نہیں ہے بلکہ امریکہ اور دوسری قوتیں اس حملے کے ذریعے بشار حکومت کو دباو میں لانا چاہتی تھیں۔امریکی حکومت نے بھی اس حملے کا ذمہ دار بشار حکومت کو قرار دیا تھا اور ردعمل میں شام کے ایک فضائی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بھی بنایا تھا۔واضح رہے کہ فرانسیسی خفیہ ایجنسی نے بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام شامی حکومت پر ہی لگایا تھا لیکن شامی حکومت مسلسل اس الزام کو مسترد کرتی چلی آ رہی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Putin highlights irans important role in syrian ceasefire in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply