ٹی وی چینل کا اسٹوڈیوبحث کے دوران حکمت یار کو دہشت گرد کہنے پر باکسنگ رنگ میں تبدیل

کابل: افغان حکومت اور گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدہ پر ہونے والے ایک ٹی وی مباحثہ میں شامل شرکاءمیں سے دو آپس میں بھڑ گئے اور ہاتھا پائی پر اتر آئے اور ایک دوسرے پر گھونسے برسانے لگے۔
اس ٹیلی ویژن بحث کی ریکارڈنگ مباحثہ کے ٹیلی کاسٹ ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔جس سے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں میں مباحثہ میں شامل دو شرکاءکے ایک دوسرے پر حملہ حیرت و استعجاب کی لہر دوڑ گئی۔
یہ گھونسے بازی اس وقت شرو ع ہوئی جب مباحثہ میں شامل ایک شخص نے حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ کو غیر موثر بتایا اور حکمت یار کو ایک دہشت گرد بتایا جو ابھی تک بین الاقوامی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔
یہ تبصرہ سنتے ہی فریق ثانی جو حکمت یار کی موافقت میں اظہار خیال کر رہا تھا تلملا اٹھا اور حزب اسلامی کو ایک ایسی اہم تنظیم بتارہا تھا جس کا افغانستان میں کافی اثر ہے۔ ان دونوں میں اتنی زیادہ گھونسے بازی ہوئی کہ اینکر اور مباحثہ میں شامل ایک اور شخص کو ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Punches exchanged during television debate on hekmatyar peace deal in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply