اسلامی تشدد کی بات کرتے ہیں تو عیسائی تشدد کا بھی حوالہ دیا جانا چاہئے: پوپ فرانسس

وارسا:عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ اسلام کو تشدد سے جوڑنا غلط ہے نیز یہ کہ سماجی ناانصافی اور پیسہ دہشت گردی کا اصل محرک ہے۔
فرانسس 26 جولائی کو فرانس کے ایک چرچ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے دوران بزرگ پادری کی گلا کاٹنے والا واقعہ کے حوالے سے بول رہے تھے۔ واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش)نے اس حملے کی ذمہ داری لی تھی۔ فرانسس نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ اسلام کے ساتھ دہشت گردی کو شناخت کرنا نہیں ہے۔
ہر مذہب میں کچھ شرارتی عناصر ہوتے ہیں۔میں اسلامی تشدد کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ روزانہ جب میں خبریں پڑھتا ہو تو دیکھتا ہوں کہ اٹلی میں کوئی اپنی محبوبہ کا قتل کر رہا ہے تو کوئی اپنی ساس کو قتل کر رہا ہے۔ اگر ہم اسلامی تشدد کی بات کرتے ہیں تو عیسائی تشدد کی بھی بات کرنی چاہئے۔ تمام مسلمان پرتشدد نہیں ہوتے“۔فرانسس نے کہا کہ دہشت گردی کے کئی اسباب ہیں۔
عظیم مذہبی رہنما نے کہا، “مجھے پتہ ہے یہ کہنا تھوڑا مشکل ہوگا لیکن دہشت گردی تبھی پنپتی ہے جب ان کے پاس پیسہ کمانے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہ دہشت گردی کی پہلی شکل ہے اور یہ سب انسانیت کے خلاف ہے ہمیں اس پر بات کرنی ہوگی“۔
انہوں نے کہا کہ معاشی متبادل کی کمی کی وجہ سے ہمیں یہ سب دیکھنا پڑتا ہے اس کے علاوہ سماجی ناانصافی کی وجہ سے بھی دہشت گردی ہوتی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pope francis refused to equate islam with violence in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply