پیرو کے صدر نے ٹرمپ سے مفرور لیڈر کی حوالگی کا مطالبہ کیا

لیما: پیرو کے صدر پیڈرو پابلو کزنسکی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملک کے مفرور سابق رہنما الیکزینڈر ٹولیڈو کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کے لئے اسرائیل کے تئیں شکریہ ادا کیا ہے۔ مسٹر کزنسکی نے بتایا کہ انہوں نے مسٹر ٹرمپ سے فون پر اس بات کا مطالبہ کیا۔ کزنسکی حکومت کا خیال ہے کہ بدعنوانی سے متعلق معاملات کی تحقیقات میں مطلوب ٹولیڈو امریکہ میں ہے۔
ٹولیڈو کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس میں قانونی رکاوٹیں ہیں۔ ٹولیڈو نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ پیرو سے بھاگا نہیں ہے لیکن اسے برازیل بلڈر اونڈےبریخت کی جانب سے دیے گئے رشوت معاملے کی تحقیقات میں منصفانہ سماعت کا حق نہیں دیا گیا۔ مسٹر کزنسکی نے اپنے بیان یا ٹیلی ویژن سے نشر خطاب میں مسٹر ٹرمپ کے رد عمل کے بارے میں نہیں بتایا۔ اس خطاب میں انہوں نے ٹولیڈو کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا ذکر کیا تھا۔ ٹولیڈو نے 2001 سے 2005 تک پیرو پر حکومت کیا تھا۔ اس دوران مسٹر کزنسکی وزیر خزانہ اور وزیر اعظم رہے تھے۔ وائٹ ہاو¿س نے مسٹر کزنسکی کے اصرار پر فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

Title: perus president asks trump to deport ex leader toledo | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply