موریشس کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ جمہوریہ ہندوستان کا نوجوانوں کا پیغام

(ماریشس سے اردو تہذیب کے لئے آبیناز جان علی کی رپورٹ)

امسال موریشس کی پچاسویں آزادی کی سالگرہ کو نہایت تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ ۹ مارچ کو تعلیمی اداروں میں اس خاص دن کو دلفریب انداز سے منایا گیا۔ اس کے علاوہ موریشس کے دارالحکومت پورٹ لوئیس میں ایک پریڈ کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر کے نوجوانوں اور طلباءنے شرکت کر کے اس کو کامیاب بنایا۔ اس سال آزادی کی تقریبات کا مرکزی خیال ’ہاتھوں میں ہاتھ‘ ہے۔ موریشس میں ہندوستانی، چینی، یورپی اور افریقی نژاد تارکین وطن مل جل کر رہتے ہیں۔ اس بظاہر نسلی فرق کے باوجود بحرِ ہند کا یہ جزیرہ دنیا کے لئے امن اور بھائی چار ے کی عمدہ مثال ہے۔
۱۱ مارچ2018کو وزارتِ تعلیم اور وزارتِ نوجوان اور کھیل کود کے اشتراک سے ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ سری رام ناتھ کوبندبطور خصوصی مہمان کا ماریشس میں پرخلوص و پرتپاک خیر مقدم ہوا۔ ماریشس کی صدرِ جمہوریہ آمینہ غارب فاکم صاحبہ سے ملاقات کے بعدمہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ میں ان کی پہلی تقریب رکھی گئی۔ اس موقعہ پر ایم۔ جی۔ آئی کے میدان میں عظیم شامیانہ لگایا گیا جس میںدو ہزار سے زائد طلباءاور نوجوانوں نے اپنی شرکت سے اس محفل میں چار چاند لگائے۔ اسٹیج کوہندوستانی طرز سے دیدہ زیب پھولوں سے آراستہ کیا گیا۔
ساڑھے تین بجے صدرِ جمہوریہ ہند تشریف لائے۔ ان کی اہلیہ اور ہندوستان سے مندوبین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سب سے پہلے ادرے کے آنگن میں موجود مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو ہار پہنایا گیا۔ مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ کا نصب العین ماریشس میں ہندوستانی زبانوں اور ہندوستانی ثقافت کو فروغ دیناہے۔ نیز ایم۔ جی۔ آئی کے ماریشس کے مختلف علاقوں میں واقع سات اسکولوں کے ذریعے بچوں میں مہاتما گاندھی اور ربندر ناتھ ٹیگور جیسے عظیم مفکروں سے ان کے ذہن کو منور کرنا اور ان کی شخصیت کی تکمیل کرنا ہے۔
’جیو اور جینے دو یہ ہمارا نعرہ ہے‘ کے عنوان پر ایم۔جی۔ آئی کے طلباءنے استقبالیہ گیت پیش کیاجس میں ہندی کے ساتھ ساتھ تمل او رتیلگو کے الفاظ بھی شامل تھے۔
وزیرِ نوجوان اور کھیل کود اسٹیفن ٹوسینٹ نے اس موقع پر اظہار مسرت کرتے ہوئے ہندوستان کے صدر کا استقبال کیا۔ اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے صدر کو ان کے پہلے دورہ ماریشس پر نیک خواہشات پیش کیں۔ محترم وزیر کے مطابق صدرِ ہند عالمی امن و اتحاد کے قائل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماریشس اور ہندوستان میں ازل سے مضبوط تعلقات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماریشس کے روشن مستقبل کی پیش گوئی بھی کی اور کہا کہ اس کی باگ دوڑ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔
حاضرین جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے کہا کہ وہ اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیںکہ اس دورے سے ماریشس آنے کا ان کاخواب شرمندئہ تعبیر ہوگیا ۔ انہوں نے ہندوستانی مندوبین کا تعارف کرانے کے بعد کہا کہ ماریشس ہندوستان کے لئے ایک خاص ملک ہے۔ ان کے استقبال کے لئے جس خلوص و محبت اور اپنائیت کا مظاہرہ کیا گیا وہ اس کے شکر گذار ہیں۔اور وہ خود کو اپنے گھر میں محسوس کر رہے ہیں۔ ماریشس والوں کے مسکراتے چہروں نے ان کو حد درجہ متاثر کیاہے۔انہوں نے پھر کریول میں یہ کہتے ہوئے کہ نوجوان ملک کے مستقبل ہیں پچاسویں آزادی کی سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ رام ناتھ نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ودسو سال پہلے ہمارے اباﺅ اجداد یہاں آئے اور ان کی آمد کی تفصیلات ابھی بھی محفوظ ہیں۔
1834میںپہلے مزدور معاہدے کے تحت ہندوستان سے موریشس آئے۔ ہندوستان اور موریشس کی تقدیر ایک ہے۔ دونو ں ملک آزادی و خود مختاری میں یقین رکھتے ہیں اور دونوں کے اقدار ایک ہیں۔ ہندوستان سے سرکاری دورے پر وزیر آتے رہتے ہیں۔ مہاتما گاندھی1901میں یہاں آئے تھے اور چھ سال بعد انہوں نے مینلال ڈاکٹر کو ماریشس بھیجا تھا۔اس کے بعد سری رام ناتھ کوبند جی نے ہندوستان کے اقتصادی اور معاشی صورتِ حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ2024تک ہندوستان کا نصب العین ہندوستان کے معاشرے کو جدید ترین بنانا ہے
۔ اس ضمن میں اسمارٹ شہروں اور نئے شہروں کی تعمیر، ماحولیاتی تحفظ، صفائی، الیکڑک بسیں چلائی اور ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی۔ وہ ہندوستانی نوجوانو ں کو اونچے مقاصد کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ زاعت اور تعلیم کے میدان میں ہندوستان ماریشس کا شریکِ کار بنے گا۔ ان کے مطابق ماریشس سے جو طلباءہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کے بعد آتے ہیں وہ ہندوستان کے سفیر بن کر واپس آتے ہیں۔ اپنی تقریر میں وقتاً فوقتاً ہندی میں گفتگو کر کے صدرِ ہندوستان نے نوجوانوں کو یاد دلایا کہ وہ ملک کے روشن مستقبل ہیںاور وہ محنت سے تعلیم حاصل کر کے کے بحرِ ہند کے اس جزیرے کی معاشی طاقت بنیں۔
اظہار تشکر میں ایم۔ جی۔ آئی کے چیر مین مسٹرمیٹو نے صدرِ جمہوریہ ہند ، تمام وزرءا اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سری رام ناتھ کووند کا پیغام بغور سنا۔ انہوں نے یہ گزارش بھی ظاہر کی کہ ہندوستان میں ماریشس استڈیز کی ایک چیئر کا قیام ہو۔
سرکاری تقریب کے بعد نوجوان نسل کے لئے ثقافتی پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں ماریشس میں رائج مختلف تہذیبیں ابھر کر سامنے آئیں۔

(abeenaaz@yahoo.co.in)

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: peaceful indian ocean was must for india and mauritius in Urdu | In Category: دنیا  ( world ) Urdu News
Tags: ,

Leave a Reply