فلسطین میں ماہ رمضان میں طلاق دینا ممنوع قرار دے دیا گیا

یروشلم:فلسطین میں اسلامی عدالتوں کے چیف جسٹس محمود حبش نے حکم جاری کیا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں کسی طلاق کے کیس کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ اس بنا پر فلسطین میں ماہ رمضان کے دوران طلاق دینا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، اس ماہ میں کوئی طلاق نہیں دے سکے گا۔میڈیا ذرائع کے مطابق فلسطین میں کوئی شخص نہ خود شادی کرسکتا ہے اور نہ ہی خود طلاق دے سکتا ہے۔ چونکہ نکاح اور طلاق کا حق صرف اسلامی شرعی عدالت کو حاصل ہے۔ اسی بنا پر فلسطینی چیف جسٹس نے ماہ رمضان میں مزاج کے تیکھے پن میں اضافے کے پیش نظر تمام ماتحت عدالتوں کو حکم دیا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں طلاق کا کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے چیف جسٹس محمود حبش کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ طلاق دینے کے بعد پشیمان ہوتے ہیں، اور دیکھنے میںآیا ہے کہ ماہ رمضان میں چونکہ کھانا، پینا اور سگریٹ نوشی ممنوع ہوتی ہے لہٰذا مردوں کا مزاج تند ہو جاتا ہے اور اس میں تیکھا پن آجاتا ہے۔ اور اگر بیوی حیض سے ہو تو اس میںبھی چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتا ہے جس سے صورت حال بے قابو ہو سکتی ہے اور جھگڑا تنا بڑھ سکتا ہے کہ نوبت طلاق تک پہنچ سکتی ہے ۔ مگر بعد میں پھر یہی طلاق دینے والے مرد حضرات پشیمان نظر آتے ہیں۔واضح رہے کہ فلسطین میں پولیس رپورٹ کے مطابق2015 میں پچاس ہزار شادیوں میں سے8ہزار طلاق کے کیس رجسٹرڈ ہوئے تھے۔

Title: palestinian judge bans divorce during ramadan | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply