پاکستانی دہشت گردی پرلگام کسنے کے لیے ہندوستان، انگلستان، امریکہ اور اسرائیل کے متحد ہونے کی ضرورت

لندن:دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کا جزو بنا کر اس پر پاکستان کا انحصار کرناخود اسی کے گلے کی ہڈی بن گیا اورا س میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ پاکستان دہشت گردی کا مجرم ہے ۔اس کا ظہار لندن میں منعقد ایک سمینار میں کیا گیا۔ہندوستان سے شائع ہونے والے ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار پرسون سونولکار کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریسی فورم اور ہیری جیکسن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد اس سمینار میں جس کا عنوان ”آیا پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے یامجرم؟“ تھا، جن مقررین نے اظہار خیال کیا ان میں برطانوی ممبر پارلیمنٹ باب بلیک مین ، امریکی ماہر تعلیم کرسٹائن فئیر اوکلاہامہ کے عقیل شاہ اور پاکستانی صحافی و مصنف عرفان حسین شامل تھے۔فئیر کے مطابق اس امر کے قرار واقعی ثبوت ہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں گذشتہ20سال سے مذہبی انتہا پسند گروپوں کی حمایت کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس قسم کی دہشت گردی کو ملنے والی حمایت کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ دہشت گرد تنطیموں کو سب سے زیادہ حمایت پنجاب سے ملتی ہے اور پنجاب ہی وہ خطہ ہے جہاں سے پاکستانی فوج میں زیادہ سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ معتبر شہادتوں کی بنیاد پر فئیرنے یہ خلاصہ کیاکہ پاکستان دہشت گردی کا مجرم ہے ۔انہوںنے کہا کہ جب کبھی پاکستان کی جمہوری حکومت کے ہندوستان کے ساتھ مصالحت کے امکانات روشن ہوئے پنجابی غلبہ والی فوج نے ہندوستان میں کہیں نہ کہیں دہشت گردانہ حملہ کرا کے بیل منڈھے نہ چڑھنے دی۔
”پاکستان دہشت گردی کا شکار اور ذریعہ دونوں ہے“ کے عنوان سے حسین نے کہا کہ پاکستان نے اپنے وقت قیام سے ہی دہشت گردی کو اپنی حکمت عملی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔اس نے یہ کام 1948میں غیر فوجی قبائلیوں کو بھیج کر، جنہوں نے کشمیر کے ایک حصہ پر قبضہ کر کے ریاست کو تقسیم کر دیا تھا،شروع کر دیا تھا۔ پاکستان نے 1971میں بنگالیوں کی نسل کشی کے لیے جماعت اسلامی کو استعمال کیا ۔اور اس کے بعد سے سرحد پار سے دہشت گردی برآمد کی جارہی ہے۔حسین نے مزید کہا کہ پاکستان سب کو دہشت زدہ کرنے کے لیے جوہری اسلحہ کے استعمال کی دھمکی دیتا ہے۔انہوں نے یہ بات کہتے ہوئے اپنی تقریر مکمل کی کہ آج پاکستان خود اپنے پیدا کردہ عفریت کے پنجہ میں خود کوجکڑا پا رہا ہے۔کیونکہ فوج نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آج جن جہادیوں کو تیار کیا جارہا ہے وہی مستقبل میں اپنے سابق آقاؤں کے خون کے پیاسے ہوجائیں گے ۔
عقیل شاہ کے مطابق پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑ رہی بلکہ محض دکھاوے اور خانہ پری کے لیے چند دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اچھے ، برے اور بد صورت دہشت گردوں کا ذکر کرتی ہے۔اس کی نظر میں اچھے دہشت گرد حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسے دہشت پسند گروپ ہیں جنہیں ملک گیر پیمانے پر دندناتے پھرنے اور چندہ جمع کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔ دوسرے گروہ جو ’برے‘کے زمرے میں آتے ہیںوہ قابو میں لائے جا سکتے ہیں اور حکومت ان کا استعمال کرتی ہے۔بدصورت گروہ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپ ہیں جو مصالحت نہیں کرنا چاہتے اور فوج انہی کے خلاف نبرد آزما ہے۔46بلین ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے بلیک مین نے کہا کہ یہ عظیم پراجکٹ چین کی ذہنی اخترساع ہے اوروہ خطہ کے فضائی و سمندری راستوں پر اپنا کنٹرول قائم کر نےکی کوشش کے جزو کے طور پر ہندوستان کو گھیرنے کے لیے پاکستان کی ملی بھگت سے تعمیر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطہ میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ پاکستان دہشت گردی کا استعمال نہ بند کر دے۔انہوں نے ہندوستان، برطانیہ ، امریکہ، آسٹریلیا اور اسرائیل جیسی جمہوری طاقتوں سے کہا کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں اور باہم تعاون کریں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistans use of terror has backfired experts tell london seminar in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply