پاکستان کا میدان ایٹمی بارودی سرنگ

دہشت گرد تظیموں کی چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں اور آلات تک رسائی کے خطرت
لندن:یہاں ڈیمو کریسی فورم کے زیر اہتمام یکم جون کو منعقد ایک سمینار میں دہشت گردوں، تخریبی عناصر اور انفرادی دہشت گردوں کی ایٹمی اسلحہ یا جوہری مواد تک رسائی سے عالمی امن و استحکام کو لاحق خطرات پر بڑی گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔فورمین کرسچین کالج لاہور میں فزکس اور ریاضی کے ممتازپروفیسر اور جوہری طبیعیات داں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ذریعہ جنگی جوہری اسلحہ تعینات کرنے پر اظہار خیال کیا ۔
یہ اسلحہ پاکستان کے اندر سرحد سے متصل علاقوں میں نصب کیے جائیں گے۔ اگر ہندوستان کی طاقتور روایتی فوج پاکستانی سرحد میں داخل ہوئی تو یہ ایٹم بم دھماکہ سے اڑا دیے جائیں گے۔ اس طرح اسے کسی بھی طور پر ہندوستان پر ا یٹمی حملہ نہیں کہا جا سکے گا کیونکہ ان دھماکوں سے جو نقصان ہوگا وہ سرزمین پاکستان پر ہی ہوگا۔اور وہیں تک محدود رہے گا۔ڈاکٹر ہود بھائی نے ہندوستان اور پاکستان کی جوہری صلاحیتوں اور پالیسیوں پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ دوڑ جاری ہے۔ ہندوستان تکنالوجی کے اعتبار سے زیادہ برتر شراکت دار ہونے کے ناطے جس حد تک آگے جا سکتا ہے جا رہا ہے۔پاکستان کے وسائل محدود ہیں اور ایک کمزور اقتصادیات میں وہ جتنا کر سکتا ہے کر رہا ہے۔
جہاں تک ایٹمی پالیسی کا تعلق ہے دونوں ممالک خود بخود ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں اور عواقب و عوامل کی پروا کیے بغیر جو جتنا زیادہ اور جس قدر بہتر ایٹمی اسلحہ تیا ر کر سکتا ہے کرنے میں لگا ہے۔انہوں نے معلوم کیا کہ کیوں ایک دہشت گرد پاکستانی فوج میں ایک بم کا سرقہ مارنا چاہتا ہے؟ بلاشبہ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل جنگ پاکستانی فوج اور دیگر مسلمانوں کے خلاف ہے۔نشانہ دہلی نہیں اسلام آبا دہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض ہوائی قیاس آرائی نہیں ہے۔ پاکستان فوج کو جتنا جانی نقصان اسلامی دہشت گردوں نے پہنچایا ہے اور جتنے پاکستانی فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں اتنے تو ہندوستان کے خلاف اب تک کی تمام جنگوں میں بھی نہیں مارے گئے۔ یہ بنیادی تضاد اور فرق ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا اصل دشمن کون ہے۔
 ڈاکٹر بیضہ اونال ،ریسرچ فیلو انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ آف کیتھم ہاؤس نے نت نئی تکنالوجیوں سے درپیش خطرے پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دہشت گرد گروپ سودے بازی کر کے ایٹمی اسلحہ حاصل کر سکتے ہیں۔کوئی ملک اگر اپنے ایٹمی نظام پر کنٹرول کھو بیٹھے یا ملک میں عدم ا ستحکام پیدا ہو جائے تو وہ جوہری مادہ فروخت کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ حکومت کے اندر کئی حلقے ایٹمی پاور پلانٹ، نظام یا ایٹمی اسلحہ اپنے کنٹرول میں کر سکتے ہیں ۔ اس کا امکان زیادہ ہے اورجہاں تک ایشیا کا تعلق ہے تو یشیا میں ایسا ہو سکتا ہے۔
رائل یونیائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹمیں ریسرچ فیلو ششانک جوشی کے مطابق غیر سرکاری انتہا پسند تنظیموں پر بحث کا مرکز زیادہ تر جنوب ایشیا ہی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ایٹمی اسلحہ میں تیزی سے اضافہ اور تبدیلی ہو رہی ہے ۔یہ اضافہ محض عددی نہیں ہے بلکہ اسلحہ کی جدید ساخت اور قسم کی بھی ہے۔جس سے سالمیت کو خطرہ اور تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔انہوں نے اس ضمن میں ہندوستان کی پہلی بالسٹک آبدوز کا ذکر کیا جس کا سمندر میں بھیج کر تجربہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ایٹمی اسلحہ سمندر میں بھی آجائے تو یو کے جیسے ممالک کو دسیوں سال سے اس کا تجربہ ہے کہ اس سے کمانڈ اور کنٹرول کو کس قدر زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بی بی سی کے فارن کارسپونڈنٹ ہمفی ہاسکی نے انتباہ دیا کہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا جوہری توسیع اسلحہ کی سونامی کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی فراہمی قابل باز پرس ہے اس لیے ہر ملک ایک ایٹمی پاور اسٹیشن تعمیر کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایندھن کی سپلائی کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔جس سے بلیک مارکٹنگ شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے غیر قانونی ایٹمی پھیلاو¿ کو روکنے کے ایک راستے کے طور پر ایٹمی توانائی صنعت کو فروغ دینے والے ممالک کو آخری متبادل کے طور پر بین الاقوامی ایندھن ذخیرہ فراہم کر نے کے لیے خزاخستان میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے لیے تیار کیے گئے آپریشن نیلم کا حوالہ دیا ۔
یہ سمینار ، جس کی صدارت انسٹی ٹیوٹ آف کامن ویلتھ اسٹدیز کے ڈاکٹر ولیم کراو¿لی نے کی اور جو ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام ہونے والے سمیناروں کے سلسلہ کی تازہ کڑی ہے،، سینیٹ ہاو¿س ، یونیورسٹی آف لندن میں منعقد ہوا ۔اس سمینار میں تقریباً55اہم شخصیات نے، جن میں دانشوران، ماہرین تعلیم، سفارت کار ، صحافی ، طلبا اور صنعتکار شامل تھے۔
    مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کریں:
thedemocracyforum@hotmail.co.uk

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistans nuclear minefield in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply