افغان صدر نے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششیں کرنے والے ملکوں کی فہرست سے پاکستان کو خارج کردیا

اسلام آباد:افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دہشت گردی کو دودرجوں میں تقسیم کرکے اس کی اچھی اوربری دہشت گردی کے طور پر تشریح کرنے کے لئے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا جنہوں نے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے کامیاب کوشش کی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کل ریڈیو پاکستان کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھاکہ افغانستان سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے وہاں ہونے والے واقعات کے لئے مسلسل پاکستان کو ہی مجرم ٹھہراتارہا ہے۔مسٹر عزیز نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی میں فرق نہیں کرتا اور وہ ضربِ عضب مہم کے تحت بلا امتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
انہوں نے افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردیدکرتے ہوئے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں پرامن ماحول کے قیام اور استحکام کی بحالی کے لئے اس کی کوشش سنجیدہ ہیں۔
انہوں نے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں بھڑکے تشدد پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا،”جب تک کشمیری لوگوں کو اپنے فیصلے لینے کا حق نہیں مل جاتا، اس وقت تک ہندوستان اس مسئلے کو دبا نہیں سکتا ہے“۔
مسٹر عزیز نے ہندوستان پر وادی کے لوگوں کی آواز دبانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندوستان میں ہو رہے واقعہ کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan does not differentiate between good and bad terrorists says sartaj in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply