دوسو ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے20لاکھ فرزندان اسلام نے وقوف عرفہ کیا

عرفات:فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا کے200سے زائد ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے20لاکھ سے زائد فرزندگان اسلام بدھ کو منیٰ میں یوم الترویہ سکون واطمینان اور عبادات ومناجات میں گزار کر آج علی الصباح حج کے رکنِ اعظم وقوف عرفہ کے لیے عرفات کے میدان پہنچ گئے جہاں انہوں نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیزآل سعود کے مقرر کردہ امام و خطیب شیخ سعدبن ناصر الشثری کی امامت میں میدان عرفات میں ہی واقع مسجد نمرہ میں ایک اذان اور2اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں 2،2 رکعت قصر تقدیم کے طور پر اد اکیں۔ بعدا زاںحجاج کرام نے شیخ سعد کاخطبہ حج سنا۔خطبہ میں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور اسلامی تعلیمات دنیا بھر میں امن اور بھائی چارے کا حکم دیتی ہیں نیز ’اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا ہے، بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کی پابندی کریں۔‘انہوں نے مزید فرمایا کہ کسی کو رنگ و نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں جبکہ مسلمانوں کو اللہ کی عبادت ایسے کرنی چاہیے جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔خطبے کے دوران انہوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو امت کی ہدایت کیلئے دنیا میں بھیجا۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں کی رہنمائی کے لیے انبیا علیہ السلام بھیجے اور ہر نبی علیہ السلام نے اپنے امتیوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی۔خطبہ حج کے دوران شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر نے کہا کہ تمام مسلمانوں پر لازم ہے شریعت کے احکامات پرپوری طرح عمل پیراہوں، زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے اور شریعت اسلامیہ نے والدین کی خدمت کا درس دیا۔ ڈاکٹر شیخ الشثری نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات اچھے اخلاق کا بھی درس دیتی ہیں۔اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ متقی بندے جنت میں داخل کیے جائیں گے، نصیحت کرتاہوں کہ تقویٰ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ تقویٰ کی بنیاد ہی توحید ہے ، توحید کا پیغام تمام انبیاء کی تعلیمات کا بنیادی رکن ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ شیخ سعد بن ناصرالشتری نے خطبہ حج میں کہا کہ اسلام نے ہر قسم کے غبن اور سود کو حرام قرار دیا، والدین کی خدمت اور فرمانبرداری اولاد پرفرض ہے، شریعت اسلامیہ کی خوبصورتی ہے کہ زمین پر زندگی، مالی اور معاشی نظام کو منظم کیا، اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا، اللہ نے فرمایا ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاو¿، ایمان لانے اور نیک عمل کرنیوالوں کو زمین پر طاقت عطا ہوگی، کسی کو رنگ اور نسل کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت نہیں، اسلام نے مسلم اور غیر مسلم کیساتھ زیادتی سے منع فرمایا ہے۔ ہم پر لازم ہے شریعت کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں، مسلمان پر لازم ہے کہ ان حدود کی حفاظت کرے جو اللہ نے اس کیلئے کھینچ دیں۔ مسلمان چاہے کسی بھی ملک، رنگ اور نسل سے تعلق رکھتا ہو وہ پ±ر امن رہتا ہے اور کسی کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اسلامی تعلیمات نے دنیا بھر کے انسانوں میں بھائی چارا پیدا کیا۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو‘۔شیخ ڈاکٹر سعد نے کہا کہ وہ اللہ سے دعا گو ہیں کہ مسلمانوں کو ان کا پہلا قبلہ ’بیت المقدس‘ واپس مل جائے۔دنیا بھر کے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ نے خطبے میں فرمایا کہ تمام مسلم حکمران اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔مسلمانوں کو تقویٰ کی تعلیم دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نصیحت کرتا ہوں کہ مسلمان تقویٰ اختیار کریں کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے متقی بندوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں خود کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں اور تمام مسلمان اللہ تعالیٰ سے ڈریں جس طرح ا±س سے ڈرنے کا حق ہے۔ مسجد نمرہ میں گورنر مکہ شہزاداہ خالد الفیصل اور سعود ی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز آل شیخ بھی موجود تھے۔خطبہ کے بعد عازمین حج وقوف عرفہ کر کے غروب آفتاب سے پہلے عرفات کے میدان سے باہر نکل کر مزدلفہ کوچ کر جائیں گے۔ حجاج مزدلفہ سے منیٰ آکر پہلے اپنے خیموںمیں جائیں گے جہاں وہ اپنا سامان رکھیں گے پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے طے شدہ وقت پر رمی کےلئے نکلیں گے۔ جمرات پل کی انتظامیہ نے رمی جمرات کا شڈول بھی جاری کردیا اور تمامحج مشنوں کو ہدایت کر دیگئی کہ وہ جدول کے مطابق اپنے عازمین کو رمی کے لئے روانہ کریں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Over 2 mln faithful in maidan e arafat to perform rukn e azam waqoof e arafa in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply