یمن میں فوجی کاروائی کا مقصد حوثی ملیشیاؤں کو سیاسی حل پر آمادہ کرنا: ترکی المالکی

بروسلز : سعودی قیادت والے عرب فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے جمعہ کے روز کہا کہ یمن میں فوجی کارروائی کا مقصد حوثی ملیشیاو¿ں پر دباو¿ ڈالنا ہے کہ وہ سیاسی حل پر آمادہ ہوجائیں۔بروسلز میں ایک پریس کانفرنس میں المالکی نے کہا کہ عوام کے تحفظ عرب اتحاد کی اعلیٰ اور اولیں ترجیح ہے۔

واضح ہو کہ المالکی یمن کی صورت حال اور جنگ زدہ مل کو امداد بہم پہنچانے کے حوالے سے یورپی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے بلجیم گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ یمن میں جائز حکومت بحال کرنے کے لیے اتحا دکی کوششیں جاری ہیں، مزید کہا کہ یمنی عوام کے لیے بہترین راستہ سیاسی سفارتی حل ہے۔

سعودی قیادت والے عرب اتحاد کی مد د سے یمن کی قومی فوج نے گذشتہ ہفتہ حدیدہ اور اس کی جنگی نوعیت سے نہایت اہم بندرگاہ کو ایران حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے قبضہ سے چھڑانے کے لیے کارروائی کی تھی۔ اگر مغربی صوبہ حوثیوں کے قبضہ سے بزیاب کرا لیا جاتا ہے تو بحر احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو جو خطرہ ہے وہ دور ہو جائے گا۔

المالکی نے حوثیوںپر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ رہائشی مکانات مقامی باشندون سے خالی کرا کے انہیں فوجی ٹھکانوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے تاجروں اور دکانداروں پر اضافی ٹیکس تھوپ دیے۔

Title: operations in yemen aimed at pressuring houthis to accept political solution | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply