نائجیریا میں اسکول کی 110 لڑکیوں کی بازیابی کی کوششیں تیز

ابو جا: نائجیریا نے اسکول کی 110 طالبات کی تلاش کے لیے اضافی فوجی دستے اور طیارے تعینات کیے ہیں۔ ان لڑکیوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ ہفتے شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے انھیں اغوا کر لیا ہے۔
یہ لڑکیاں ملک کے شمال مشرقی صوبے یوبے کے ڈاپچی شہر کے ایک سکول سے 19 فروری سے لاپتہ ہیں جب جہادی تنظیم نے ان کے سکول پر حملہ کیا تھا۔صدر محمد بخاری نے اسے ‘قومی سانحے’ سے تعبیر کرتے ہوئے طالبات کے اہل خانہ سے معافی مانگی ہے۔اس حملے نے 2014 کے چیبوک حملے کی یاد تازہ کردی ہے جس میں ڈھائی سو سے زیادہ لڑکیاں اغوا کر لی گئی تھیں۔
طالبات کے اہل خانہ کے غم و غصے میں اس بات پر اضافہ نظر آ رہا ہے کہ گذشتہ ماہ ڈاپچی کے اہم چیک پوائنٹس سے فوجیوں کو ہٹا لیا گےا تھا۔ڈاپچی پر گذشتہ پیر کو حملہ ہوا تھا۔ یہ چیبوک سے تقریبا پونے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔ حملے کی وجہ سے گورنمنٹ گرلز سائنس اینڈ ٹیکنیکل کالج کی طالبات اور اساتذہ کو قریبی جھاڑیوں میں چھپنا پڑا تھا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بعد میں فوجی طیاروں کی نگرانی میں سکیورٹی فورسز نے اس حملے کو پسپا کر دیا۔حکام نے پہلے لڑکیوں کے اغوا ہونے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے چھپی ہوئی تھیں۔
لیکن بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ حملے کے نتیجے میں 110 لڑکیاں لاپتہ ہیں۔شدت پسند تنظیم بوکو حرام ملک کے شمالی علاقے میں ایک عرصے سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے بر سرپیکار ہے۔تقریبا چار سال قبل انھوں نے چیبوک کے ایک سکول سے 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘برنگ بیک آور گرلز’ کی مہم نظر آئی تھی۔
ان میں سے ابھی بھی ایک سو سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے۔ملک میں جاری شورش کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں اغوا ہوئے ہیں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nigerias president calls mass schoolgirl abduction national disaster in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply