حکومت مغوی لڑکیوں کی بازیابی کے لیے بوکر حرام سے مذاکرات کے لیے تیار

جوہانس برگ:یو این آئی) نائجیریا کے صدر محمد بوہاری نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم بوکو حرام اندرونی بغاوت اور چپقلش کے باعث نہایت کمزور ہو چکی ہے۔
انہوں نے کینیا میں منعقد ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس آف افریقہ ڈیولپمنٹ میں کہا کہ بوکو حرام کا فی الحال نائجیریا کے کسی بھی علاقے پر قبضہ نہیں ہے اور وہاں تنظیم اب الگ الگ گروپوں میں منقسم ہوچکی ہے۔
انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ان کی حکومت د و سال قبل بوکوحرام کے ذریعہ چیبوک سے اغوا کی گئی اسکولی طالبات کی رہائی کے لئے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ مسٹر بوہاری کا کہنا ہے کہ اگر بوکو حرام کی قیادت حکومت سے بات چیت نہیں کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کے لئے بین الاقوامی تسلیم شدہ غیر سرکاری تنظیموں سے رابطہ قائم کرنا چاہئے۔
نائیجیریا کی حکومت ان اغوا شدہ لڑکیوں کی سلامتی چاہتی ہے۔ بوکو حرام نے اپریل 2014 میں تقریباً تین سو لڑکیوں کو ایک اسکول سے اغوا کرلیا تھا۔ بعد میں کئی لڑکیاں بھاگ گئیں لیکن 218 کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بوکو حرام لیڈر ابو بکر شیکاو¿ شدید زخمی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nigeria president says boko haram leader has been wounded in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply