شام میں جنگ بندی معاہدہ ٹائیں ٹائیں فش، جھڑپیں پھر شروع

بیروت: شامی حکومت اور اپوزیشن گروپ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے دو گھنٹے کے اندر ہی فریقین میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ مانیٹرنگ گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شامی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد ہی جھڑپ شروع ہو گئی۔ باغیوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہاماصوبے پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف باغی گروپ جیش محمد النصر کے ترجمان محمد راشد نے بتایا کہ سرکاری فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہاماصوبے کی سرحد سے متصلادلب صوبے کے اتسان اور اسکے ایک گاؤں میں فائرنگ کی۔
اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ جنگ بندی معاہدہ مکمل طور پر لاگو ہونے سے علاقے میں جاری جنگ کو روکا جا سکتا ہے اور سیاسی بات چیت کا ماحول تیار کیا جا سکتا ہے۔ مسٹر ٹونر نے کہا ”ہم جنگ بندی معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کئے جانے اور ہر طرف سے اس کا احترام کرنے کی امید کرتے ہیں“۔ واضح رہے کہ شام کی حکومت اور اپوزیشن گروپ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد ہی یہ جنگ بندی شروع ہوئی تھی اور اس جنگ بندی کا اعلان روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کل کیا تھا۔ لیکن جنگ بندی معاہدے میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) اور ال نصرہ فرنٹ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ طے پایا گیا تھا کہ شام کی فوج اور باغی گروہ ایک دوسرے پر حملے بند کر دیں گے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: New cease fire begins in syria but violations are reported within hours in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply