ٹلرسن کی برطرفی سے اسرائیل خوش،پومپو کو وزیر خارجہ بنائے جانے پر امریکی اسلامی کونسل ناخوش

واشنگٹن :جس وقت دورہ افریقہ سے واپسی کے فوراً بعد وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو صدارتی ٹوئیٹ کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا کہ انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر کے ان کی جگہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپو کو وزیر خارجہ مقرر کردیا گیا ہے،تو جس قدر حیرت انہیں اور امریکی سیاسی حلقوں میں ہوئی ہوگی اس سے کہیں زیادہ خوش و مسرت کا اظہار اسرائیل میں کیا گیا ہوگا۔
واضح رہے کہ ٹیلرسن اور صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان روز اول سے ہی سرد جنگ جاری تھی ۔اور شمالی کوریا، قطر اور ایران کے معاملات خاص طور پر ایران کے ایٹمی معاہدےپر ٹرمپ کے رویہ پر ان دونوں کے درمیان اختلافات و کشیدگی مخفی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ ٹیلرسن نے ٹرمپ کو ”بیوقوف“ کہا ہے۔ اور ٹیلرسن نے بھی اس کی تردید نہیں کی تھی۔ اور بارہا نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ٹلرسن عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے ۔
لیکن سیاسی و سفارتی حلقوں میں ٹیلرسن کو یہی مشورہ دیا جاتا رہا کہ وہ کم از کم ایک سال تک عہدے سے دستبردار نہ ہوں۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں سب سے بڑے مسلم گروپ کاؤنسل برائے رابطہ امریکہ ا سلامی (سی اے آئی آر)نے ایک بیان جاری کیا ہے جسمیں اس نے ٹلرسن کو عہدے سے برطرف کرنے پر تو کوئی اظہار خیال نہیں کیا لیکن پومپو کے وزیر خارجہ کے طور پر اور گینا ہاسپل کی سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر تقرر کی سخت مخالفت کی۔
کاؤنسل کے مطابق مسٹر پومپو جیسے افراد جو اسلامی فوبیا نظریات کے حامل ہیں اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے مسلم مخالف گروپ سے وابستہ ہیںیا محترمہ ہاسپل ، جوقیدیوں کوجسمانی اذیتیں دیے جانے کے وقت بہ نفس نفیس موجود رہتی ہیں،جیسی شخصیات کو امریکی حکومت میں کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔

Title: muslim group decries islamobic nominee and torturer | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply