دو ہزار سعودی شہری شام ،یمن افغانستان اور پاکستان میںتکفیریوں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں

دبئی :(یو این آئی) سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے حوالے سے جرمنی نیوز نیٹ ورک ڈائچے ویلے( ڈی ڈبلیو) نے انکشاف کیا ہے کہ 2000 سے زیادہ سعودی شہری بیرون ملک ’جہادی‘ گروپوں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں موجود سعودی ’جہادیوں‘ کی تعداد 31 ہے۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر2093 سعودی شہری دنیا کے مختلف ممالک میں جہاد کی غرض سے عسکری گروپوں کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے ستّر فیصد سعودی شہری شام میں مختلف گروہوں کے ساتھ مل کر ’جہادی سرگرمیاں‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ شام میں سعودی ’جہادی شہریوں‘ کی تعداد 1540 کے قریب ہے۔ 2014 میں داعش کی طرف سے مختلف علاقوں پر قبضے کے بعد سے دنیا بھر کے جہادی ان علاقوں میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
ڈی ڈبلیو نے مزید بتایا کہ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان جنرل منصور الترکی کے مطابق تقریباً 139 سعودی شہری یمن کے ان علاقوں میں موجود ہیں، جہاں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جہادی گروپ موجود ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً31 سعودی ’جہادی‘ افغانستان اور پاکستان میں بھی موجود ہیں۔
2014 کے بعد داعش نے عراق میں واضح کامیابیاں حاصل کی تھیں تاہم وہاں موجود سعودیوں کی تعداد صرف پانچ بناتی گئی ہے۔ بیرون ملک زیر حراست سعودی ’جہادیوں‘ کی تعداد 73 بتائی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے شہری دنیا بھر میں مختلف جہادی تنظیموں کی مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: More than 2000 saudis fight as mercenaries in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply