پارلیمانی الیکشن کا واحد سکھ امیدوار بھی ننگر ہار خود کش حملہ کے ہلاک شدگان میں شامل

کابل: اتوار کے روز ننگر ہار صوبہ میں جس خود کش حملہ میں 19افراد ہلاک ہوئے ان میں افغانستان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کھڑا ہونے کا ارادہ کرنے والا ایک سکھ سیاستداں بھی شامل ہے۔

مقتول اوتار سنگھ خالصہ کا ارادہ افغانستان میں ہندو اور سکھ فرقہ کے لیے محفوظ واحد حلقہ سے الیکشن کڑنے کاارادہ تھا۔بتایا جاتا ہے کہ اوتار سنگھ افغان صدر ایک قافلہ کے ساتھ صدر افغانستان اشرف غنی سے ملاقات کرنے جارہے تھے کہ اس خود کش دھماکہکا شکار ہو گئے۔

ننگر ہار پولس کے سربراہ غلام ثنائی اسٹانک زئی کے حوالے سے پژواک افغان نیوز نے کہا کہ یہ خود کش دھماکہ اس وقت ہوا جب تین گاڑیوں میں سوار یہ قافلہ جلال آباد کے دورے پر آنے والے اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا۔

اوتار سنگھ خالصہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی لیکن ان کا بیٹا نریندر سنگھ بچ گیا اور ایک مقامی اسپتال میں داخل ہے جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔اوتار سنگھ کے پسماندگان میں بیوی اور چار بچے ہیں۔ننگر ہار گورنر کے ترجمان عطا ءاللہ خوگیانی کے مطابق ہالک ونے والے19افراد میں 11سکھ اور باقی ہندو تھے۔

جبکہ کئی سکھوں سمیت20دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ افغان ولسی جرگہ کے عنوان سے موسوم پارلیمنٹ کے ایوان زیریںکی 249نشستوں کے لیے 20اکتوبر کو پولنگ ہونا طے ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lone sikh candidate among those killed in jalalabad blast in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply