پیرس دہشت گردانہ حملے کے زندہ گرفتار واحد حملہ آ ور کے وکلا کا اب اس کا دفاع کرنے سے انکار

پیرس: اسلامی انتہاپسندوں کے اس گروپ کے ، جس نے گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں130افراد کو ہلاک کیا تھا، وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کو بچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اگرچہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں حملہ آور بھی مارے گئے تھے لیکن صالح عبدالسلام فرار ہونے میں کامیاب ہو گیاتھا لیکن وہ اس سال کے اوائل میں پکڑا گیا تھا۔
تب سے ہی اسے پیرس کے نزدیک ایک مقام پر قیدتنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے وکلا فرانک برٹن اور سوین میری نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ وہ کسی سے بات نہیں کرتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کا مقدمہ لڑے۔ برٹن نے کہا ہم سمجھ چکے ہیں اور اس نے ہمیں یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ نہیں بولے گا اور خاموش رہنے کے اپنے حق کا استعمال کرے گا۔ اب ہم کیا کرسکتے ہیں۔
میں شروع سے ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر میرا موکل خاموش رہے گا تو میں اس کی وکالت نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ انتہائی سخت پہرے والی جیل میں 24 گھنٹے کیمروں سے ا س کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس سے عبدالسلام جنونی ہوگیا ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lawyers of paris attacker say they will no longer defend him in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
Tags:

Leave a Reply