حزب اختلاف پناہ گزینوں کے آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی لگائے جانے کے حق میں نہیں

سڈنی: آسٹریلیا میں کشتی کے ذریعہ داخل ہونے والے پناہ گزینوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ آج اس وقت کھٹائی میں پڑگیا جب اپوزیشن نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس کی زوردار مخالفت کرےگا۔ اس منصوبہ کے تحت پناہ لینے کے خواہش مند لوگ جنہیں حقیقت میں پناہ گزینوں کے برابر سمجھا جاتا ہے اورجو کسی تیسرے ملک میں رہ چکے ہیں انہیں سیاحتی ،تجارتی اور کوئی دیگر ویزا نہیں دیا جائےگا۔
دوسری جانب اپوزیشن کے رہنما بل سورٹن نےا س پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیال یہ ہے کہ امریکہ ،کناڈا،نیوزی لینڈ کے کسی بھی شہری پر آپ 30سے 40سال تک پابندی لگائیں گے جو مجھے کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے۔ دراصل وزیراعظم میلکم ٹرنبل کا ایوان بالاسینیٹ میں اکثریت سے نہیں ہے اور اپوزیشن لیبر پارٹی کی حمایت کے بغیر پابندی لگانے والے اس بل کو پاس کرانا بہت مشکل ہوگا۔
آسٹریلیا میں سرحدی سکیورٹی قانون بہت سخت ہیں اور ملک کی سرحد میں کشتی کے ذریعہ داخل ہونے والے پناہ لینے کے خواہش مندوں کو پکڑ کر پاپوا نیو گنی کے مانس اور جنوبی پیسیفک جزیرہ ملک نورو کے قیدی کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔ان کیمپوں میں اس وقت 1200سے زیادہ قیدی ہیں۔اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ پناہ گزین قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Labor will oppose the lifetime ban on refugees entering australia in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply