عراق میں 15 ترک خواتین کو داعش کے ساتھ تعلق ہونے کے الزام میں سزائے موت

بغداد: عراق کی ایک عدالت نے نے 15 ترک خواتین کو داعش کے ساتھ تعلق ہونے کے الزام میں سزائے موت سنادی۔میڈیا رپورٹوںکے مطابق جوڈیشل حکام کا کہنا تھا کہ 15 ترک خواتین کو سزائے موت جب کہ 1 ترک خاتون کو مسلح تنظیم کی ممبر ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
خیال رہے کہ عراق میں تقریباً 560 خواتین جبکہ 600 کے قریب بچوں کو دہشت گرد یا داعش کے جنگجوو¿ں کے رشتہ دار ثابت ہونے پر سزائیں دی جاچکی ہیں ،جبکہ عراق میں ان افراد کے لیے ٹرائل کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا ہے۔جنوری کے مہینے میں عدالت کی جانب سے ایک جرمن خاتون کو داعش کو امداد فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ اس سے قبل ایک ترک خاتون کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق انسانی حقوق کے نگہداشت ادارے نے عدالتی فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق تقریباً 20 ہزار کے قریب افراد اس وقت عراق کی جیلوں میں داعش سے تعلقات ہونے کے الزام میں موجود ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
عراق کے انسداد دہشت گردی قوانین عدالت کو حملہ میں ملوث نہ ہونے پر بھی داعش کی مدد کرنے والے افراد کو سزا دینے کا اختیار دیتا ہے۔قانون کے مطابق عدالت کو داعش سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے غیر مسلح ہونے کے باوجود بھی سزائے موت دیے جانے کا اختیار حاصل ہے۔

Title: iraq court sentences 15 turkish women to death for joining is | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply