ترک فوجی سربراہ کی صدر ایران حسن روحانی سے اہم ملاقات

اربیل(کرد خطہ): ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اورترکی کے مابین متعدد شعبوں خاص طور پر فوجی تعاون سے خطہ کو استحکام ملے گا اور خطرات دور ہوں گے۔ ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل حلوصی آکارکا تہران کے قصر صدارت میں خیر مقدم کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ فی الوقت دونوں ممالک کے درمیان اطمینان بخش سیاسی ، اقتصادی اور بین الاقوامی رشتے ہیں۔ہمیں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ باہمی فوجی و دفاعی تعلقات میں بھی وسعت لانا چاہیے۔
روحانی نے مزید کہا کہ خطہ کی سرحدوں میں تبدیلی سے خطہ کے استحکام پر ضرب لگے گی۔ترک فوجی سربراہ کی ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری کے درمیان بھی ایک اہم ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں دونوں سربراہان نے مشترکہ سرحدوں پر سیکیورٹی اور علاقے کی تازہ ترین صورت پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اس دوران سرحدی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ترک فوج کے سربراہ نے ایران کے اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی سے بھی ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں علاقے کی سیکیورٹی اور دفاعی صورت حال سمیت ایران، روس اور ترکی کے درمیان شام کے بحران سے متعلق طے پانے والے سہ فریقی معاہدے پر عمل درآمد، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراقی کردستان میں علیحدگی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ترک صدر طیب اردگان نے بھی کہا ہے کہ وہ چار اکتوبر کو ایران کا دورہ کریں گے اور اس دوران ایرانی حکام کے ساتھ عراقی کردستان میں ہونے والے ریفرنڈم اور شام سے متعلق آستانہ مذاکرات کے عمل پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

Title: iran talks broader ties with turkey in meeting with army chief | In Category: دنیا  ( world )
Tags: ,

Leave a Reply