ہند پاک حالیہ سفارتی تنازعہ پاکستان کے داخلی خراب حالات کا عکاس:پرویز ہود بھائی

لندن: نیوکلیائی فزیسسٹ اور سماجی کارکن پرویز ہود بھائی نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفارت کاروں کے حوالے سے تازہ ترین تنازعہ پاکستان میں ایسی خراب صورت حال کی عکاسی کرتاہے جس میں فوج نے عام انتخابات سے پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بدنام کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔
نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو پریشان کرنے کے الزامات پرپاکستانی ہائی کمشنر متعین ہندوستان سہیل محمودکو مشاورت کے لیے پاکستان واپس بلا لیا گیا اورہندوستانی سفارت کاروں کے ساتھ اسی قسم کے سلوک کی خبریں ملی ہیں۔ فوج کی اقتصادی و سیاسی طاقت اور جمہوریت پر اس کے اثرات کے عنوان سے یو کے کے دارالخلافہ لندن میں ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام منعقد ایک سمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نیوکلیائی فزیسسٹ اور سماجی کارکن پرویز ہود بھائی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قبل از انتخابات کی صور ت حال میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات یرغمال بنے ہوئے ہیں۔عام انتخابات رواں سال کے اواخر میں متوقع ہیں۔
ہود بھائی نے مزید کہا کہ عین انتخابات سے قبل ہند پاکستان تعلقات کے حوالے سے اس لیے سخت گیر رویہ اختیار کیا گیا ہے کیونکہ فوج نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ہندوستان کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کے طور پر پہچانے جانے والے نواز شریف کو خوب بدنام کیا جائے۔
ہود بھائی نے، جو پاکستان کے حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے کے لیے پہچانے جاتے ہیں، مزید کہا کہ سفارت کاروں کو ہراساں اور پریشان کیا جانا اندرون ملک کھیلے جانے والے کھیل اور داخلی کشمکش کا مظہر ہے۔ یہ ساری کوششیں اور کھڑاگ ہندوستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے باعث بدعنوانی کی آڑ میں صرف اور صرف نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این) کو بدنام کرنے کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی اعانت بند کرنے کے اپنے عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کے باعث رواں سال فروری میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں ڈال دینے سے پاکستانی فوج کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Title: indo pak diplomatic row reflects internal struggle in pakistan says activist hoodbhoy | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply