جرمنی میں نئے بل کا مسودہ کچھ پناہ گزینوں کے لئے سخت ثابت ہو سکتا ہے

برلن: جرمنی نے ایک نئے بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں پناہ گزینوں کو ملک میں پناہ دینے کے لئے قوانین سخت کئے گئے ہیں۔ جرمن روزنامہ ڈے ویلٹ نے آج کہا کہ داخلی امور کے وزیر تھامس ڈی میجیرے نے نئے بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔اس نئے قانون میں جرمن قانون توڑنے والے اور ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ پیدا کرنے والے پناہ گزینوں کو ملک سے باہر نکالنے کے نئے قوانین بنائے جائیں گے۔
مسٹر میجیرے اور دیگر کنزرویٹو سرکاری افسر جولائی میں ہوئے تشدد حملوں کے بعد ان پناہ گزینوں کوان کے وطن واپس بھیجنے کے عمل کو تیز کرنے پر زور دےرہے ہیں جن کی ملک میں پناہ دینے کی عرضیاں مسترد کی جا چکی ہیں۔ جولائی میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ شامی پناہ گزینوں کی طرف سے دو حملے کئے گئے تھے۔ پولیس نے پیر کوایک 22 سالہ شامی شہری کو گرفتار کیا ہے جسے جون 2015 میں ملک میں عارضی طور پر پناہ دی گئی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ وہ برسلز اور پیرس میں ہوئے حملوں کی طرح ہی حملے کرنے کی تیاری میں تھا۔
خفیہ ذرائع نے کل بتایا کہ اس شخص کےاسلامی اسٹیٹ سے رابطے ہیں۔ اخبار نے بل کے مسودے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست تک جرمنی سے21 لاکھ 209 پناہ گزینوں کو ملک چھوڑنا تھا جبکہ ایک لاکھ 58 ہزار 190 لوگوں کو عارضی طور پر یہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔مسودے کے مطابق اپنی شناخت یا شہریت کے بارے میں انتظامیہ کو گمراہ کن معلومات دینے والے غیر ملکیوں کو اگر واپس بھیجنا ممکن نہ ہو یا وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہ کررہے ہوں تو انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Germany may tighten rules allowing failed asylum seekers leave to stay in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply